.

شام کی مخلوط قومی حکومت میں بشار الاسد کا کردار مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں مخلوط قومی حکومت کے قیام کی تجاویز کے ساتھ ہی #امریکا اور شامی اپوزیشن نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ ملک میں عبوری حکومتی سیٹ اپ میں صدر #بشار_الاسد کا کوئی کردار قبول نہیں کریں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی حکومت کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے کہ شام میں تمام نمائندہ دھڑوں پر مشتمل قومی حکومت کا قیام وقت کی ضرورت ہے مگر #واشنگٹن قومی حکومت میں بشار الاسد کا کوئی کردار تسلیم نہیں کریں گے۔ شام میں اقتدار عبوری حکومت کو منتقل کرتے ہی بشارالاسد کا ہر طرح کا کردار ختم ہوجائے گا۔

ادھر شامی اپوزیشن نے بھی کہا ہے کہ وہ عبوری حکومت میں صدر بشار الاسد کو کسی قیمت پرقبول نہیں کریں گے۔ شامی اپوزیشن کی سپریم کونسل کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ انتقال اقتدار کے بعد بشار الاسد کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

#جنیوا میں شامی اپوزیشن کے مذاکراتی وفد کے چیئرمین اسعد الزعبی کا کہنا ہے کہ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں اب تک جتنی بھی قراردادیں منظور کی گئی ہیں ان میں شام میں قائم ہونے والی مجوزہ عبوری حکومت کو مکمل اختیارات دینے کی بات کی گئی ہے۔ قومی حکومت کے پاس صدر کے اختیارات بھی ہوں گے۔ قومی حکومت تشکیل دینے کے بعد بشارالاسد کو ایک منٹ کے بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔

قبل ازیں شامی حکومت کے وفد نے جنیوا میں جاری مذکرات کے دوران کہا تھا کہ قومی حکومت کی تشکیل کے لیے شامی اپوزیشن، حکومت اور آزاد شخصیات کو شامل کیا جانا چاہیے۔

صدر بشار الاسد بھی اس حوالے سے اپنا موقف پیش کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "جنیوا مذاکرات کی کامیابی کے لیے میرے وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھا جائے۔" انہوں نے کہا کہ ماضی کے ناکام تجربات دہرانے کی ضرورت نہیں۔ بات چیت کا آغاز اچھا ہوا ہے مگر ضروری ہے کہ مذکرات کے اگلے تمام ادوار بھی اسی نہج پر آگے بڑھائے جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لمحہ موجود میں جنیوا مذاکرات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی ہے مگر فریقین کا قومی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بنیادی اصولوں کا ڈھانچہ تیار کرنا اہم ہے۔

صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ شام میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے روسی فوج کی موجودگی بھی ضروری ہے۔ وہ اپنی اس بات پرمصر رہے کہ شام کو وسیع تر دہشت گردی کا سامنا ہے اور دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے کئی سال کا عرصہ لگے گا۔

شام کے کردوں سے متعلق بات کرتے ہوئے صدر بشارالاسد کا کہنا تھا کہ کرد آبادی کی اکثریت متحدہ شام کی حامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام میں وفاقی نظام کے قیام کا کوئی امکان نہیں۔ شام ایک چھوٹا ملک ہے اور عوام ایسا ہرگز نہیں چاہئیں گے جس کے نتیجے میں ملک کمزور ہو۔ انہوں نے کہا کہ جنگ نے شام کو 200 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔