.

صلاح عبدالسلام کو فرانس کے حوالے کرنے کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئن حکام نے پیرس حملوں میں ملوّث ہونے کے شُبے میں گرفتار صلاح عبدالسلام کو فرانس کے حوالے کرنے کی منظوری دے دی ہے جبکہ حالیہ بم حملے کا نشانہ بننے والے برسلز ائیرپورٹ کو مرمت کا کام مکمل ہونے کے بعد دوبارہ کھولا جارہا ہے۔البتہ اس ہوائی اڈے سے پروازیں فوری طور پر بحال نہیں ہوں گی۔

صلاح عبدالسلام کو 18 مارچ کو برسلز میں پولیس نے ایک چھاپا مار کارروائی کے دوران گرفتار کیا تھا۔پیرس میں نومبر میں حملے کرنے والے اس کے تمام ساتھی ہلاک ہوگئے تھے اور صرف وہ زندہ بچا تھا اور فرار ہوکر بیلجیئم آگیا تھا جہاں وہ چارماہ تک چھپتا چھپاتا رہا تھا۔

اس کی گرفتاری کے چار روز بعد داعش کے حملہ آوروں نے برسلز کے ہوائی اڈے اور ایک میٹرو اسٹیشن پر خودکش بم دھماکے کیے تھے۔ان خودکش حملہ آوروں کا صلاح عبدالسلام اور پیرس میں حملے کرنے والے سیل سے ہی تعلق رکھتا تھا۔

صلاح عبدالسلام کے وکیل سیڈریک موئس نے برسلز میں صحافیوں کو بتایا ہے کہ ''ان کے چھبیس سالہ موکل نے یورپی وارنٹ گرفتاری کے تحت فرانس منتقل ہونے سے اتفاق کیا تھا۔وہ فرانسیسی حکام کے ساتھ تعاون کرنا چاہتا ہے اور وہ ان الفاظ کو بھی عام کرنا چاہتا تھا''۔

صلاح عبدالسلام کی گرفتاری کو بیلجیئم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا جارہا ہے۔اس کو برسلز کے علاقے مولن بیک میں اس کے خاندان کے مکان کے نزدیک سے ہی گرفتار کیا گیا تھا۔برسلز میں بم دھماکوں کے بعد سے اس نے کسی قسم کی بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔

فرانسیسی وزیر انصاف ژاں ژاک ارواس نے کہا ہے کہ صلاح کو آیندہ دس روز میں فرانس کے حوالے کیا جانا چاہیے۔ بیلجیئن کے تفتیش کاروں کو فرانس میں بھی ملزم سے پوچھ تاچھ کی اجازت ہوگی۔

اس نے تفتیش کاروں کو بتایا تھا کہ اس نے پیرس میں حملوں کے لیے لاجسٹک رابطہ کار کے طور پر کردار ادا کیا تھا۔اس نے فرانس اسٹیڈیم میں خودکش بم دھماکا کرنا تھا لیکن اس نے عین وقت پر اپنا ارادہ بدل لیا تھا اور وہاں سے کہیں اور چلا گیا تھا۔