.

ترکی نے شامیوں کو جبرا واپس بھیجا : ایمنسٹی انٹرنیشنل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ ترکی نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ہزاروں شامیوں کو غیرقانونی طور پر ان کے وطن واپس بھیجا ہے۔

اس اقدام سے ان مہاجرین کو درپیش خطرات کا اندازہ ہورہا ہے جن کو آئندہ ہفتے سے قابل اطلاق معاہدے کے تحت یورپ سے واپس بھیجا گیا ہے۔

ترکی نے رواں ماہ یورپی یونین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت غیرقانونی طور پر یونان جانے والے تمام مہاجرین اور پناہ گزینوں کو واپس لایا جائے گا۔ اس کے مقابل ترکی کو مالی امداد اور اس کے شہریوں کو یورپی یونین کے سفر میں سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ترکی کے 28 ممالک پر مشتمل بلاک یورپی یونین میں شمولیت کے حوالے سے بات چیت کو تیز کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ معاہدے کی قانونی حیثیت اس بات پر موقوف ہے کہ ترکی پناہ کے لیے ایک پرامن ملک ہو جب کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ واضح طور پر ایسا نظر نہیں آتا۔ ایمنسٹی کے مطابق گزشتہ سات سے نو ماہ کے دوران ہزاروں پناہ گزینوں کو اجتماعی شکل میں غالبا شام واپس کیا گیا جو ترکی اور بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔

یورپ اور وسطی ایشیا میں ایمنسٹی کے ڈائریکٹر جان ڈیل ہوسن کا کہنا ہے کہ " سرحد بند کرنے کی کوشش کے بیچ یورپی یونین کے سربراہان نے قصدا سادے سے حقائق کو بھی نظر انداز کردیا کہ ترکی شامی پناہ گزینوں کے لیے ایک محفوظ ملک نہیں ہے اور وہاں سیکورٹی کی صورت حال روز بہ روز روبہ زوال ہے"۔

ادھر ترک وزارت خارجہ نے اس امر کی تردید کی ہے کہ شامیوں کو جبری طور پر ان کے وطن واپس بھیجا گیا۔ وزارت کے مطابق ترکی نے تو پانچ سال سے شامی مہاجرین کے لیے "دروازہ کھلا " رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے اور وہ "عدم جبری واپسی" کے اصول پر سختی سے کاربند ہے۔

وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار نے غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ "جن شامیوں نے تحفظ کا مطالبہ کیا تو بین الاقوامی اور ملکی قانون پر عمل کرتے ہوئے ان میں سے کسی کو بھی ہمارے وطن سے ان کے وطن جبری طور پر واپس نہیں بھیجا جائے گا"۔

تاہم دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ترکی کے جنوب میں سرحد کے نزدیک واقع صوبوں میں جمع کی جانے والی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حکام جنوری کے وسط سے روازنہ تقریبا 100 شامیوں (مردوں، عورتوں اور بچوں) پر مشتمل گروپوں کو گرفتار کر کے انہیں بے دخل کرتے رہے۔

بین الاقوامی تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ترک حکام نے جنوبی سرحدی صوبوں میں شامی پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کم کردی ہے اور جن لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہورہی وہ صحت اور تعلیم کی بنیادی خدمات سے بھی محروم ہیں۔