.

امریکی صدارتی امیدوارمسلمانوں کو ہدف بنا رہے ہیں: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ اس وقت امریکا میں اسلام فوبیا عروج پر ہے اور امریکی صدارتی امیدوار انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کو ہدف بنا رہے ہیں۔

وہ واشنگٹن کے نواح میں ترکی کے عطیے سے تعمیر شدہ مسجد کے افتتاح کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔امریکا میں تعمیر ہونے والی یہ سب سے بڑی مسجد ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اس وقت بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔میں تعجب اور حیرت سے دیکھ رہا ہوں کہ امریکا میں بعض صدارتی امیدوار ابھی تک اس موقف کی تائید کررہے ہیں''۔

امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں پر اسلام فوبیا کو ہوا دینے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔اس جماعت کے سرکردہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا کہ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر عارضی پابندی عاید کردی جائے۔ان کے حریف ری پبلکن صدارتی امیدوار ٹیڈ کروز بھی اس معاملے میں ان سے کسی طرح پیچھے نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو ملک میں مسلم آبادی والے علاقوں میں پہرا دینا چاہیے۔

صدر ایردوآن نے کہا کہ ''بدقسمتی سے ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں جس میں امریکا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف عدم رواداری اور تعصب میں اضافہ ہوا ہے۔یہ بالکل ناقابل قبول ہے کہ تمام مسلمانوں کو 11 ستمبر 2001ء کے حملے کی دردناکیوں کی قیمت چکانا پڑے''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''برسلز اور پیرس میں دہشت گردی کے واقعات کی طرح ہی ترکی کو داعش ،کردوں اور بائیں بازو کے انتہا پسندوں کا سامنا ہے۔برسلز اور پیرس میں دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ترکی کو درپیش دہشت گردی سے ان کا کوئی موازنہ نہیں ہے''۔

انھوں نے اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ترکی نے بیلجیئن حکومت کو برسلز میں حملوں کے ایک منصوبہ ساز کے بارے میں پیشگی آگاہ کیا تھا لیکن بیلجیئن حکام نے ترکی کے انتباہ کو مسترد کردیا تھا''۔انھوں نے یورپ پر الزام عاید کیا کہ وہ ترکی کو مطلوب جنگجوؤں کو اس کے حوالے نہیں کررہا ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں گذشتہ سال جون کے بعد سے داعش نے چار بم حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے جن کے نتیجے میں ڈیڑھ سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ترکی کے جنوب مشرقی علاقوں میں علاحدگی پسند کرد جنگجوؤں نے مسلح بغاوت برپا رکھی ہے۔ان علاقوں میں تشدد کے واقعات میں 1984ء کے بعد سے چالیس ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

ترک صدر نے میری لینڈ میں عثمانیہ دور کے طرز تعمیر کے مطابق بنی جس مسجد میں خطاب کیا ہے،یہ ایک بڑے کمپلیکس کا حصہ ہے اور یہ امریکا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا کیمپس ہے۔اس میں ایک کانفرنس سنٹر ،لائبریری اور ترک باتھ بھی موجود ہے۔