.

ریاض، بھارت دہشت گردی خاتمے کے لئے تعاون پر متفق

نریندرمودی کیلئے سعودی عرب کا سب سے بڑا سول اعزاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے بھارتی اور سعودی حکومتوں کے درمیان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مربوط کوششوں اور تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ سعودی فرمانروا نے علاقائی امور میں نئی دہلی کی دلچسپی اور خطے میں استحکام کی کوششوں میں ہاتھ بٹانے کی اہمیت پر بات کی۔

نریندر مودی نے امید ظاہر کی کہ شامی بحران کے حل کی خاطر بین الاقوامی کوششیں پہلی جنیوا کانفرنس کے فیصلوں کی روشنی میں جلد سے جلد بار آور ثابت ہوں۔ نیز اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والی مشاورت سے یمن میں امن اور سلامتی کا دور واپس لوٹے۔ یمن کا مسئلہ بھی اقوام متحدہ کی قرارداد 2216 کی روشنی میں جلد حل ہو۔

اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری بڑھانے اور اسٹریٹجک تعاون سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط بھی ہوئے۔

اعلی سول سعودی ایوارڈ عطائیگی

اس موقع پرنریندر مودی کوسعودی عرب کے سب سے بڑے سول اعزاز ’شاہ عبدالعزیز ایوارڈ‘ دیا گیا ۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو سعودی عرب کا سب سے بڑا سول اعزاز ’شاہ عبدالعزیز ایوارڈ‘ دیا گیا۔

نریند مودی نے اس موقع پر شاہ سلمان کو کیرالہ کی ایک مسجد کا ماڈل بھی پیش کیا، جس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا تھا۔
بعدازاں نریند مودی نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا، ' شکریہ سعودی عرب، اپنے دورے کے دوران میں نے مختلف پروگراموں میں شرکت کی، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔'

سعودی تجارتی اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں

قبل ازیں مسٹر مودی نے دارلحکومت ریاض میں وزیر داخلہ محمد بن نائف اور سعودی تیل کمپنی ارامکو کے چیئرمین عبدالعزیز الفلاح سے بھی ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے سعودی ایوان تجارت اور صنعت سے وابستہ کاروباری شخصیات سے بھی تبادلہٴ خیال کیا اور بھارتی کمپنی ٹاٹا کے زیر انتظام خواتین کے ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی سینٹر کا بھی دورہ کیا۔ اس دوران بھارتی وزیر اعظم نے بھارتی کارکنوں کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے ساتھ جنوبی ایشیائی کھانا بھی کھایا۔

واضح رہے کہ بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد عرب ممالک، بشمول سعودی عرب میں کام کرتی ہے اور بھارتی حکومت کو ایک بڑا زر مبادلہ ان افراد کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ بھارت کے سعودی عرب کے ساتھ فروغ پاتے روابط کی ایک وجہ اس کا سعودی تیل پر انحصار بھی ہے۔ بھارت اپنی تیل کی ضروریات کا اسی فیصد دوسرے ممالک سے درآمد کرتا ہے۔

اس بارے میں بھارتی وزارت خارجہ کے ایک اہل کار شری مریدل کمار کا کہنا تھا، ’’ہماری تیل کی ضروریات کا بیس فیصد سعودی عرب پوری کرتا ہے۔ ہم یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس ترسیل میں کوئی کمی نہ ہو۔‘‘

تجارت کو اہمیت

گزشتہ برس ہندو قوم پرست جماعت بھارتیا جنتا پارٹی کے رہنما مودی نے متحدہ عرب امارات کا بھی دورہ کیا تھا۔ مودی نے برسر اقتدار آنے کے بعد کاروباری اور تجارتی تعلقات کو فوقیت دی ہے اور ایسے ممالک سے بھی قریب تعلقات استوار کر لیے ہیں، جنہیں روایتی طور پر پاکستان کا حلیف سمجھا جاتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے دورے کے موقع پر نہ صرف مودی اور امارات کے درمیان تجارتی تعاون فروغ پایا بلکہ عرب ممالک نے بھارت کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست دلوانے کی بھی یقین دہانی کروائی۔ سعودی عرب کی طرح متحدہ عرب امارات میں بھی بھارتیوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے۔

یاد رہے کہ نریندر مودی کا یہ پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب تھا، وہ 3 ممالک کے اپنے حالیہ دورے کے آخری مرحلے میں سعودی عرب پہنچے تھے۔