.

یو اے ای : حزب اللہ کے اصحاب ثلاثہ کو جیل کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں ایک عدالت نے تین لبنانیوں کو ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی ایک مقامی شاخ قائم کرنے کے جرم میں چھے، چھے ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ان میں ایک کینیڈین شہری بھی ہے۔

ایک مقامی روزنامے اتحاد کی رپورٹ کے مطابق وفاقی عدالت عظمیٰ نے ان تینوں افراد کو دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کا ایک مقامی گروپ تشکیل دینے کے الزام میں قصور وار قرار دیا ہے اور ان کی قید کی سزا پوری ہونے کے بعد انھیں امارات سے بے دخل کر دیا جائے گا۔

ان تینوں افراد کو لائسنس کے بغیر تجارتی ،معاشی اور سیاسی سرگرمیاں انجام دینے پر عدالت نے سزا سنائی ہے کیونکہ وہ عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے تھے۔ سزا پانے والے لبنانی نژاد کینیڈین کا نام سہیل نایف غریب (عمر باسٹھ سال) ہے ،لبنانی شہری کا نام اسعد امین قنسوح (عمر چھیاسٹھ سال) اور احمد ابراہیم قنسوح (عمر تیس سال) ہے۔ان کے خلاف مقدمے کی سماعت فروری کے اوائل میں شروع ہوئی تھی۔

عرب لیگ اور چھے رکن ممالک پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے گذشتہ ماہ حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا تھا۔حزب اللہ کے جنگجو اس وقت شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغی گروپوں ،داعش اور النصرۃ محاذ وغیرہ کے خلاف لڑرہے ہیں۔

ابوظبی کی ایک اور عدالت میں تیئیس مدعاعلیہان کے خلاف القاعدہ سے وابستہ سیل تشکیل دینے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان میں زیادہ تر یمنی ہیں اور دو ملزم مفرور ہیں۔متحدہ عرب امارات میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے مقامی خود ساختہ امیر کے خلاف وفاقی عدالتِ عظمیٰ کے تحت اسٹیٹ سکیورٹی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔اس اماراتی پر دارالحکومت ابوظبی میں فارمولا 1 سرکٹ سمیت مختلف اہداف پر حملوں کی سازش کا الزام ہے۔

اس اماراتی شخص اور اس کی بیوی نے سوشل میڈیا کے ذریعے داعش کے خلیفہ ابوبکرالبغدادی کی بیعت کی تھی۔ اس کی اہلیہ علاء بدرالہاشمی نے امریکی اسکول ٹیچر آئیبولیا ریان کو دسمبر 2014ء میں ابوظبی شاپنگ مال کے ایک واش روم میں چاقو کے پے درپے وار کرکے قتل کردیا تھا۔قاتلہ کو عدالت نے قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی اور اس کو گذشتہ سال جولائی میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ہے اور اس کے لڑاکا طیارے ستمبر 2014ء سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہے ہیں۔یو اے ای نے اسلام پسندوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کررکھا ہے اور گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران اخوان المسلمون، القاعدہ یا ان سے وابستہ گروپوں سے تعلق کے الزام میں بیسیوں افراد کو لمبی مدت کی قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔