.

سعودی عرب اپنی نوعیت کا منفرد ملک ہے : بل گیٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بل گیٹس جہاں بھی جاتے ہیں معلومات اور تجربہ ان کے پیچھے ہاتھ باندھے چلے آتے ہیں اور اگر مقام ہو سعودی عرب تو پھر کیا بات ہے !

جی ہاں اتوار کے روز بل گیٹس سعودی دارالحکومت ریاض میں موجود تھے جہاں کنگ خالد فاؤنڈیشن نے بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر "فیلوشپ چیریٹی پروگرام" شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر سعودی وزیر برائے سماجی امور ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصیبی اور کنگ خالد فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر جنرل شہزادی البندری بنت عبدالرحمن الفیصل بھی موجود تھے۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک سربراہ بل گیٹس نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے باور کرایا کہ سعودی عرب اپنی نوعیت کا ایک منفرد ملک ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہاں موجود نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اور مملکت کا ان پر انحصار کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان نوجوانوں کو تعلیم کے سیکٹر کی ترقی کے لیے ذمہ داریاں سونپی جائیں کیوں کہ یہ سیکٹر دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔

گیٹس کا کہنا تھا کہ "دنیا کے کسی بھی ملک میں سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش تینوں سیکٹروں میں پیش رفت کی ابتدا تعلیمی عمل کی ترقی سے ہوتی ہے"۔

گیٹس نے اس امر پر زور دیا کہ اعتماد ور منصوبہ بندی غیرمنافع بخش سیکٹر کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر آپ بیس برس کے بعد امتیازی خصوصیات کا حامل ایک فلاحی سیکٹر چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو آج سے ہی ابتدا کرنا ہوگی۔

بل گیٹس نے واضح کیا کہ سعودی عرب نے نوجوانوں کے روزگار اور انہیں عملی زندگی میں شریک کرنے کے مسئلے کا کچھ حصہ حل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم انہوں نے ایک مرتبہ پھر تربیت اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں اور نوجوانوں میں ناکامی کا احساس نہ پیدا ہوسکے۔ بل گیٹس نے کہا کہ "میں 2006 میں یہاں تھا، اس وقت سعودی عرب کو دنیا کے بڑے ممالک کی صفوں میں لا کھڑا کرنے کی بات کی جارہی تھی۔ ایک مرتبہ پھر ہم یہاں موجود ہیں اور ابھی تک اسی چیلنج کا سامنا ہے۔ اب بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ نوجوان اس ہدف کے حصول میں اپنے کردار کو جانیں"۔

گیٹس نے کہا کہ " سخاوت اور عطاء سعودی ثقافت کے مرکزی اجزاء ہیں، اسی لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہاں منظم فلاحی عمل کا مستقبل تابناک ہے"۔

مائیکروسافٹ کے بانی کے مطابق عطیات ایک اچھا امر ہے مگر دشواری اس چیز میں ہوتی ہے کہ ان سیکٹروں، افراد یا اداروں کو تلاش کیا جائے جنہیں ان عطیات کی ضرورت ہے۔ گیٹس نے واضح کیا کہ "مسئلہ صرف رقوم پیش کردینے پر موقوف نہیں بلکہ افراد میں اہلیت پیدا کرنے سے بھی متعلق ہے"۔

دوسری جانب سماجی امور کے سعودی وزیر ڈاکٹر ماجد بن عبداللہ القصیبی کا کہنا تھا کہ "یہ دن حقیقی ارتقاء کا دن ہے، میں اس شراکت پر کنگ خالد فاؤنڈیشن کو مبارک باد پیش کرتا ہوں"۔

اس موقع پر کنگ خالد فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر جنرل شہزادی البندری بنت عبدالرحمن الفيصل نے بتایا کہ خلیجی ممالک میں مستحقین کو پہنچنے والے عطیات کی سطح صرف 20 فی صد ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ عطیات کے لیے رقوم پیش کرنے میں نہیں بلکہ اس کو صحیح جگہ تک پہنچانے میں ہے۔ اس سلسلے میں مملکت کے فلاحی سیکٹر میں تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنے اور ورکرز کی صلاحیتیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔

"شغف" کے نام سے اس نئے پروگرام کے تحت 10 سعودی نوجوانوں (مردوں اور خواتین) پر مشتمل گروپ کو مملکت میں غیرمنافع بخش سیکٹر میں کام کرنے اور اس سیکٹر میں سرگرم تنظیموں کی جانب سے پیش کی جانے والی خدمات کی سطح کو بڑھانے کے لیے تیار کیا جائے گا۔

"شغف" پروگرام کے مقاصد میں "مملکت میں غیرمنافع بخش سیکٹر کے لیے مستقبل کی قیادت تیار کرنا، پروگرام میں شریک افراد کی مہارتوں کو بڑھانا، مقامی سطح پر ترقی کے امور کے لیے سعودی نمائندے تیار کرنا اور مملکت میں غیرمنافع بخش تنظیموں کی انتظامیہ اور قیادت کے حوالے سے بہترین صلاحیتوں کے حامل افراد تیار کرنا" شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اس پروگرام کے جس پر آئندہ دو سالوں کے دوران عمل درامد کیا جائے گا، کئی محور ہیں۔ ان میں کسی بھی غیرمنافع بخش سعودی تنظیم یا فلاحی ادارے میں 23 ماہ تک کل وقتی طور پر کام کرنا، اس دوران غیرمنافع بخش تنظیموں کے انتظامی امور سے متعلق بھرپور تربیتی پروگرام میں شرکت بھی ہوگی۔ تربیتی پروگرام کا انعقاد اعلی درجے کی کسی عالمی یونی ورسٹی میں 2017 کے موسم گرما کے دوران کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ امریکا میں بیل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور ان کے کسی ایک شریک ادارے کا تعلیمی دورہ بھی کرایا جائے گا تاکہ ان اداروں کے تجربات سے مستفید ہوا جاسکے۔