.

موصل میں قونصل خانے پر حملہ رضامندی سے ہوا : ترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ داعش کے خلاف برسرجنگ بین الاقوامی فوجی اتحاد کے طیاروں نے ترک حکام کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد ہی عراقی شہر موصل میں ترکی کے قونصل خانے کی عمارت کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ انٹیلجنس معلومات کے مطابق داعش کے کچھ کمانڈر وہاں قیام پذیر تھے۔

پیر کے روز جاری وزارت خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اتحادی طیاروں نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب تین بجے قونصل خانے کی اس عمارت کو بمباری سے تباہ کر دیا جس پر داعش نے جون 2014 سے قبضہ کر رکھا تھا۔ انٹیلجنس ذرائع کی معلومات کے مطابق عمارت میں تنظیم کے کئی کمانڈر موجود تھے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آپریشن کی تیاری اور اس پر عمل درامد سے متعلق تمام تر اقدامات کے دوران ترکی کی رائے اور رضامندی حاصل کی گئی۔

​یاد رہے کہ داعش تنظیم نے جون 2014 میں عراق کے شمالی شہر موصل پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے بعد تنظیم کے ارکان نے شہر میں ترکی کے قونصل خانے پر دھاوا بول کر وہاں کام کرنے والے اہل کاروں اور ان کے گھر والوں سمیت 49 افراد کو حراست میں لے لیا جن میں ترک قونصل جنرل بھی شامل تھے۔ تقریبا 3 ماہ بعد 20 ستمبر کو ترک حکام ان افراد کو آزاد کرا کر انہیں ترکی لانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔