.

روس کے ایس-300 میزائلوں کی ایران کو جلد ترسیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے آیندہ چند روز میں ایران کو ایس-300 فضائی دفاعی میزائل نظام کی پہلی کھیپ روانہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

روس کی انٹرفیکس نیوز ایجنسی نے وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار ضمیر قبلوف کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ''میں نہیں جانتا،یہ آج ہوگا لیکن ایس-300 میزائل ایران کو روانہ کرنے کے لیے لاد دیے جائیں گے''۔

یادرہے کہ روس نے امریکا،اسرائیل اور دوسرے مغربی ممالک کے دباؤ پر 2010ء میں ایران کے ساتھ اس جدید میزائل شکن راکٹ سسٹم کی فروخت سے متعلق معاہدے کو منسوخ کردیا تھا۔اس نے یہ اقدام ایران پر جوہری پروگرام کے تنازعے کی وجہ سے عالمی پابندیاں عاید ہونے کے بعد کیا تھا۔

اس سال جنوری میں ایران پر عاید عالمی پابنیوں کے خاتمے کے بعد روس نے یہ میزائل نظام اس کو دوبارہ فروخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ ایران روس کا قریبی اتحادی ہے اور وہ اس کے اسلحے کا بھی بڑا خریدار ملک ہے۔

ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں طویل مذاکرات کے بعد تاریخی جوہری معاہدہ طے پایا تھا۔اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنیں عاید کردی ہیں اور اس کے بدلےمیں اس پر عاید امریکا ،یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی پابندیاں ختم کردی گئی ہیں لیکن اس معاہدے کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے کیونکہ ایران نے اپنے میزائل پروگرام اور دفاعی صلاحیت کو ترقی دینے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔