.

سعودی عرب نے ایرانی فضائی کمپنی پرپابندی عاید کردی

’ماھان ایئر‘ پریمن اور شام میں مداخلت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کے محکمہ شہری ہوا بازی نے #ایران کی فضائی کمپنی ’#ماھان_ایئر‘ کے مملکت کی فضاء اور ہوائی اڈوں کے استعمال پر پابندی عاید کرتے ہوئے ایرانی کمپنی کے ساتھ ہرطرح کا تعاون ختم کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے محکمہ شہری ہوابازی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام چلنے والی ’ماھان ایئر‘ کو یمن میں حوثی باغیوں اور شام میں صدر بشارالاسد کی معاونت کی پاداش میں سعودی عرب کی سرزمین اور فضاء استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی فضائی فرم کو جاری کردہ تمام اجازت نامے منسوخ کردیے گئے ہیں جس کے بعد ماھان ایئر سعودی عرب کی فضاء استعمال کرسکتی ہے اور نہ اسے مملکت کے کسی ہوائی اڈے پر اپنے جہاز اتارنے کی اجازت ہوگی۔

بیان میں کہا گیاہے کہ سعودی محکمہ شہری ہوابازی ملک میں فضائی نقل وحمل کے حوالے سے وضع کردہ قوانین پرسختی سے عمل پیرا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی ملک کی فضائی کمپنی کی جانب سے سعودی عرب کے قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔ ایران کی ’’ماھان ایئر‘‘ کی جانب سے سعودی فضائی قوانین کی متعدد بار خلاف ورزی کی گئی جس کے بعد کمپنی کو جاری کردہ پرمٹ منسوخ کردیے گئے ہیں۔

سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنی ویب سائیٹ پرپوسٹ کردہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی کمپنی کے خلاف کارروائی سعودی عرب کے قانون کی دفعہ 163 کی خلاف ورزی اور فضائی سروس کی سہولیات کے غلط استعمال کے ساتھ ساتھ مسافروں کی جانوں کو خطرات میں ڈالنے کے تناظر میں کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ایران کی ’’ماھان ایئر‘‘ سنہ 1992ء میں جنوبی ایران کے کرمان کے علاقے میں قائم کی گئی تھی۔ اگرچہ یہ ایک نجی ایئرلائن ہے مگراس کے بیشتر حصص پاسداران انقلاب کے زیرانتظام چلنے والے ایک خیراتی ادارے’’مولیٰ موحدین‘‘ کے پاس ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ فضائی کمپنی پاسداران انقلاب کے زیرانتظام سمجھی جاتی ہے۔

سنہ 2011ء میں ’’ماہان ایئر‘‘ کے پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم تنظیم فیلق القدس سے معاونت کی پاداش میں امریکی وزارت خزانہ نے کمپنی پرپابندیاں عاید کردی تھیں۔ اس کمپنی پرالزام ہے کہ اس کے طیاروں کو ایران سے جنگجو اور اسلحہ شام اور عراق بھیجا جاتا رہا ہے۔

یمنی باغیوں اور بشارالاسد کی معاونت

پاسداران انقلاب کی ماتحت سمجھی جانےوالی ’’ماھان ایئر‘‘ پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ اس کے طیارے شام میں صدر بشارالاسد کے لیے فوجی سازوسامان اور جنگجو لانے کے ساتھ ساتھ یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی باغیوں کو بھی اسلحہ پہنچاتی رہی ہے۔

یمنی ذرائع ابلاغ کےمطابق دارالحکومت صنعاء پر حوثی باغیوں کے قبضے کے بعد ماھان ایئر اور یمن کی فضائی کمپنی کے درمیان ایک معاہدہ بھی طے پایا تھاجس کے تحت ایرانی فضائی کمپنی صنعاء میں باغیوں کو اسلحہ اور دیگر جنگی سامان مہیا کرتی رہی ہے۔ ماہان ایئرنے صنعاء اور تہران کے درمیان فضائی پل بنانے کی بھی کوشش کی اور اس کے ہوائی جہاز مسلسل ایران سے یمن میں پروازیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔