.

سوئس طلبہ نے استانیوں سے مصافحہ سے کیوں انکار کیا؟

معمولی سی بات پر یورپی لبرلز نے پیالی میں طوفان برپا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی سوئٹزرلینڈ میں سکول کے مردطالب علموں پر اپنی استانیوں سے مصافحہ کی پابندی ختم کرنے کے فیصلے پر سوموار کے روز ملک کے طول وعرض میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا۔

شمالی سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل کی بلدیہ تھرویل نے چودہ اور پندرہ برس کے دو طالب علموں کی شکایت پر متنازع فیصلہ دیا۔ متذکرہ طالب علموں نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا تھا کہ استانیوں سے ہاتھ ملانے کی پابندی دراصل ان کے دینی اعتقاد کے خلاف تھی۔

تھرویل کونسل کی ترجمان مونیکا ویس نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ "اگرچہ بلدیہ سکول انتظامیہ کے فیصلے سے اتفاق نہیں رکھتی، تاہم سکول کی جانب سے اپنے قواعد وضع کرنے کے اختیار کا احترام کرتے ہوئے وہ اس میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی۔"

اس فیصلے سے ملک کے طول وعرض میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔ سوئس وزیر انصاف سیمونیٹا سوموراگا نے سرکاری ٹی وی پر سوموار کے روز ایک پروگرام میں بہ اصرار یہ بات کہی "کہ بلا امتیاز مصافحہ کرنا ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔"

سوئس پارلیمان کے سائنس، تعلیم اور ثقافت کمیشن کے سربراہ فیلکس موئیری کا کہنا ہے کہ یہ روایت "عزت اور اچھے آداب کی نشانی ہے۔"

سوئس کانفرنس برائے وزرائے تعلیم کے سربراہ کرسٹوف ایمان کا کہنا ہے کہ ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے ہیں کہ پبلک سروس میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ مردوں سے علاحدہ برتائو رکھا جائے۔

درایں اثنا سوئٹزرلینڈ کی مرکزی اسلامی کونسل نے ایک بیان میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ "سکول کے طلباء کی اپنی استانی سے ہاتھ ملانے کے علاوہ تعظیم کے اظہار کا کوئی دوسرا طریقہ چاہتے تھے جسے سوئس اقدار کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔" کونسل کا مزید کہنا تھا کہ اسلامی فقہ اور جیورٹس نے مرد و زن کے درمیان ایسے [مصافحہ] کو ممنوع قرار دیا ہے۔

تاہم سوئٹزرلینڈ میں اسلامی تنظیموں کی فیڈریشن نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ مرد و زن کا مصافحہ دینی طور پر جائز اور مسلم ممالک میں روزمرہ کی بات سمجھا جاتا ہے۔