.

امریکی انتخابات: ٹرمپ اور ہیلری کی مشکلات میں اضافہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست وسکونسن میں منگل کی صبح سے ہی ووٹروں نے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کیا تاکہ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے تمہیدی انتخابات کے سلسلے میں رائے شماری میں حصہ لے سکیں۔

ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے مقابل ٹیڈ کروز کی طرف سے سنجیدہ نوعیت کے چیلنج کا سامنا ہے۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے سینیٹر کروز کو نیویارک کے صاحب ثروت ٹرمپ پر تھوڑے سے پوائنٹس کی برتری حاصل ہے اگرچہ سروے رپورٹیں ووٹوں کی تقسیم پر متفق نظر نہیں آتی ہیں۔

ریاست اوہایو کے گورنر جان کیسک نے اس دوڑ سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ بھی بہت سے دوسروں کی طرح یہ خیال کرتے ہیں کہ ٹرمپ کا راستہ روکنے اور انہیں حتمی نامزدگی کے لیے مطلوب نمائندگی حاصل نہ کرنے دینے سے، کیسک کی ریاست کے شہر کلفلینڈ میں منعقد ہونے والی پارٹی کانفرنس کے سامنے وسیع باب کھل جائے گا۔

ٹرمپ اور ناراض حلقہ

ڈونلڈ ٹرمپ ریاست وسکونسن میں کسی انہونی کا انتظار کررہے ہیں تاکہ وہ اس دوڑ میں برتری جاری رکھ سکیں۔ اسی طرح جیسا کہ ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں ہوا تھا۔ جب سابق امیدوار جیب بش اپنی صدارتی نامزدگی کے لیے تمام تر امیدیں لگا کر بیٹھ گئے تھے اور پھر سینیٹر مارکو روبیو نے سنجیدگی کے ساتھ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار کے طور اپنا نصیب حاصل کرنے کے لیے کام کیا۔ تاہم ٹرمپ اپنے دونوں مقابل امیدواروں کے خلاف جیت گئے اور بش اس دوڑ سے نکل جانے پر مجبور ہو گئے۔

تمام ریپبلکن امیدوار اس بات کے منتظر ہیں کہ ووٹروں کی بھرپور دلچسپی نظر آئے تاکہ وہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکیں۔ دائیں بازو کے قدامت پرست اس بات کی یقین دہانی چاہتے ہیں کہ ریاست کے ووٹرز ٹرمپ کے خلاف اور ٹیڈ کروز کے حق میں ووٹ دیں گے جو ریاست اسکاٹ واکر کے گورنر کے حمایت یافتہ ہیں۔ ٹرمپ کی مہم چلانے والے چاہتے ہیں کہ پارٹی میں ناراض افراد بھی ووٹ ڈالیں اور اپنے ووٹوں کے ذریعے ریپبلکن پارٹی کی چیدہ شخصیات کو نیا دھچکہ پہنچائیں۔

ریاست میں قائم پولنگ مراکز میں ووٹرز کی لائنیں تیزی سے بڑھ رہی تھیں اور رائے دہندگان کی کوئی بہت بڑی تعداد نظر نہیں آئی، تاہم ووٹرز کی دلچسپی بہتر سطح پر تھی۔ ٹرمپ کو آزاد ووٹرز سے زیادہ امید ہے جو ان کے حق میں ووٹ دے سکتے ہیں۔ بالخصوص ریاست میں ووٹنگ اوپن ہے اور کوئی بھی شخص اپنے سیاسی تعلق سے قطع نظر ووٹ دے سکتا ہے بشرط یہ کہ وہ ایک مرتبہ ووٹ ڈالے۔

ہیلری کلنٹن کو درپیش رکاوٹ

حیران کن نتائج کی ڈیموکریٹس کے نزدیک بھی اہمیت کسی طور کم نہیں۔ صدارتی امیدوار برنی سینڈرز ریاست وسکونسن میں اپنی جیت چاہتے ہیں تاکہ ہیلری کلنٹن اور ڈیموکریٹک پارٹی کی چیدہ شخصیات کے سامنے یہ ثابت کر سکیں کہ ہیلری کی اب تک کی برتری کو ان کے حتمی صدارتی امیدوار بننے کے حوالے سے فیصلہ کن نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

​سروے رپورٹوں میں ابھی تک سینیٹر سینڈرز کو برتری حاصل ہے اور انہوں نے ہیلری کے خلاف اپنے بیانات میں شدت کی سطح بھی بڑھا لی ہے۔ سینڈرز درحقیقت ڈیومکریٹس ووٹرز کے سامنے ہیلری پر الزام عائد کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بڑے مفادات اور سیاسی رقوم کے لیے کام کررہی ہیں۔

ہیلری کلنٹن بھی اپنا دفاع کر رہی ہیں اور سینڈرز کو ریاست میں کسی بڑی برتری کے حصول سے روکنا چاہتی ہیں۔ بالخصوص آئندہ معرکہ نیویارک میں ہونے والا ہے جو کہ ان دونوں کی ریاست ہے۔ ہیلری ریاست سے سینیٹر منتخب ہوچ کی ہیں جب کہ سینڈرز نیویارک کے علاقے بروکلن میں پیدا ہوئے۔ یہ بلا شبہ دونوں امیدواروں کے لیے ایک کھلا معرکہ ہو گا۔