.

ایران کی سعودی عرب اور بحرین کو دوبارہ سنگین نتائج کی دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے خلیجی ممالک بالخصوص مملکت #سعودی_عرب کے خلاف زہر اگلنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایک جانب ایرانیوں کی طرف سے امن اور دوستی کی خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے اور دوسری جانب صبح و شام خلیجی ملکوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے کے مطابق ایرانی #پاسداران_انقلاب کے سربراہ جنرل محمدعلی جعفری نے اپنے ایک تازہ بیان میں بالعموم تمام خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور #بحرین کو سنگین نتایج کی دھمکیاں دیں۔

ایرانی فوجی عہدیدار کی جانب سے سعودی عرب اور بحرین کو دھمکیاں ایک ایسے وقت میں دی جا رہی ہیں جب یمن میں ایران نواز #حوثی باغیوں اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات میں اہم پیش رفت کی خبریں آ رہی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی’’تسنیم‘‘ کی رپورٹ کے مطابق جنرل محمد علی جعفری نے خلیجی ممالک کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پر کیا۔ ایران میں نئے سال کےآغاز کے بعد پہلے اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے جنرل جعفری نے جوہری پروگرام پر طے پائے معاہدے، معیشت میں سادگی اختیار کرنے اور ایران کے عالمی برادری اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات پربھی تفصیلی بات چیت کی۔

میزائل پروگرام جاری رکھنے کی دھمکی

جنرل جعفری نے اپنی تقریر میں ایران کا میزائل پروگرام بدستور جاری رکھنے کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے میزائل پروگرام سے امریکی خوف زدہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں مگر تہران پرجنگ مسلط کی گئی تو اس کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کی صورت میں ہم ایسے ہی لڑیں گے جیسے عراق کے ساتھ آٹھ سال تک لڑتے رہے ہیں۔ عراق کی طرح امریکیوں کو بھی جنگ کی صورت میں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

خلیجی ممالک کو دھمکیاں

ایرانی پاسداران انقلاب کے چیف جنرل جعفری نے اپنی تقریر میں حسب معمول تمام خلیجی ملکوں خاص طورپر سعودی عرب اور بحرین کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ انہوں نےکہا کہ ایران کو سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ملک بحرین سے خطرہ ہے اور ایران کو اس نوعیت کے خطرات کے تدارک کاحق حاصل ہے۔

انہوں نے عرب ممالک پر اسرائیل کے ساتھ ساز باز کا الزام عاید کیا اور کہا کہ ایران کی تلواریں عرب ممالک سے انتقام لینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔

جنرل محمد علی جعفری نے شام میں صدر بشارالاسد، لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں کی بھی کھل کرحمایت کی اور ان کی ہرممکن مدد کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن شام کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ تاہم ان کا ملک برطانیہ، امریکا اور صہیونیوں کی گٹھ جوڑ سے تیار کی جانے والی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

بہ ظاہرجنرل جعفری نے فلسطینیوں کی دلجوئی کے لیے ان کی بھی حمایت کی مگر ساتھ ہی ساتھ ساتھ انہوں نے یمن کے حوثی باغیوں کی مدد جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔