.

مریض باپ کی بیٹے کی شادی میں 20 منٹ کی شرکت

’میرے والد کومے میں نہیں‘ دلہا نے افواہوں کی تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کے شہر #دمام میں حال ہی میں ہونے والی شادی کی ایک تقریب میں دلہا کے مُعمر اور بیمار والد کو اسپتال سے بیس منٹ کے لیے شادی میں لایا گیا، تاہم سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تصویرمیں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی نوجوان نے شادی کی تقریب میں اپنے بے ہوش والد کو اسپتال سے گھر منتقل کرکے اس کے ساتھ سیلفی بنائی۔ اس افواہ نے دلہا عبداللہ الھیاس کو بہت مایوس کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ میرے والد کومے میں نہیں بلکہ وہ ہوش و حواس میں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الھیاس نے وضاحت کی کہ اس کے والد دمام کے ایک مقامی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ ان کے بارے میں یہ دعویٰ کہ وہ دماغی فالج کے نتیجے میں کومے میں ہیں قطعا غلط اور بے بنیاد ہے۔ میرے والد اچھی طرح سنتے، دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔

جہاں تک انہیں اسپتال سے گھر شادی کے لیے بلائے جانے کی بات ہے تو وہ انتظامیہ کے مشورے سے ہوئی۔ اسپتال انتظامیہ نے مریض والد کو 20 منٹ کے لیے گھر بھجوایا تاکہ وہ بیٹے کی شادی کی خوشی میں کچھ دیر شرکت کرسکیں تاہم ان کی خرابی صحت کی بناء پرانہیں دوبارہ اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

الھیاس کا کہنا تھا اس کے والد کو چار سال قبل دماغی فالج کا اٹیک ہوا تھا جس کے بعد وہ مسلسل اسپتال ہی میں زیرعلاج ہیں۔ تاہم وہ کومے میں نہیں ہیں بلکہ دیکھتے،سنتے، بولتے اور محسوس کرتے ہیں۔ بیٹے کا کہنا ہے کہ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ علالت کے باوجود انہوں نے بیس منٹ کا وقت میری شادی میں شرکت کےلیے دیا۔ سوشل میڈیا پر 30سالہ دلہا عبداللہ الھیاس اور اس کے والد صالح کی تصویر کافی مقبول ہوئی ہے۔ صالح وہیل چیئر بیٹھے دیکھے جاسکتے ہیں جب کہ الھیاس اور خاندان کے دیگر افراد ان کے گرد کھڑے ہیں۔