.

برسلز حملے: ایک بمبار یورپی پارلیمان میں کام کرچکا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں 22 مارچ کو خود کو دھماکے سے اڑانے والا ایک بمبار یورپی پارلیمان میں کلینرکے طور پر کام کر چکا تھا۔

یورپی پارلیمان کے ترجمان نے ایک بیان میں اس خودکش بمبار کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ 2009ء اور 2010ء میں ملازمت کرتا رہا تھا لیکن ترجمان نے اس حملہ آور کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

ترجمان ژوام ڈچ گیلٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''وہ صفائی کرنے والی ایک کمپنی کے لیے ایک ماہ تک کام کرتا رہا تھا۔اس وقت یورپی پارلیمان نے اس کمپنی کے ساتھ صفائی کا ٹھیکا کیا تھا''۔

یورپی یونین کے ایک عہدے دار کے مطابق یہ دہشت گرد پچیس سالہ نجیم العشراوی ہے۔اس نے برسلز کے ہوائی اڈے پر خود کو دھماکے سے اڑایا تھا۔اس نے مبینہ طور پر پیرس میں نومبر میں حملے کرنے والے بمباروں کے لیے خودکش جیکٹس بھی تیار کی تھیں۔

22 مارچ کو برسلز کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ڈیپارچر ہال اور ایک میٹرو اسٹیشن پر تین خودکش بم دھماکے کیے گئے تھے۔ان میں تین حملہ آوروں سمیت پینتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شام اور عراق میں برسر پیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے ان بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ جب نجیم العشراوی نے یورپی پارلیمان میں عارضی ملازمت کے لیے درخواست دی تھی تو اس کا مجرمانہ ریکارڈ بالکل صاف تھا۔

وہ یورپی پارلیمان میں ملازمت کے حصول میں کیونکر کامیاب ہوگیا تھا،اس کی وضاحت کرتے ہوئے بیلجیئن پارلیمان کے سابق ڈپٹی اسپیکر لوڈ وانوسٹ نے کہا کہ ''اس طرح کی عارضی ملازمتوں کی تن خواہیں بہت کم ہوتی ہیں اور ایسی اسامیوں پر زیادہ تر غیرملکی تارکین وطن ہی درخواستیں دیتے ہیں۔ان کے بارے میں کوئی زیادہ چھان بین بھی نہیں کی جاتی ہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی سکیورٹی ایجنسیاں بھی پیرس میں نومبر میں حملے کرنے والے دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی تھیں۔

برسلز میں خودکش دھماکے کرنے والے چار میں سے تین حملہ آوروں کی پہلے ہی شناخت ہوچکی ہے۔ان میں ابراہیم البکراوی اور خالدالبکراوی دو سگے بھائی تھے۔وہ دونوں برسلز میں پیدا ہوئے تھے اور نجیم العشراوی بیلجیئن شہری تھا۔ بیلجیئن پولیس اب چوتھے حملہ آور کی تلاش میں ہے۔