.

برسلز حملے ناکامی،مگر بیلجیئم ناکام ریاست نہیں: وزیر اعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیلجیئم کے وزیراعظم نے 22 مارچ کو دارالحکومت برسلز میں داعش کے خودکش بم حملوں کو سکیورٹی کی ایک ناکامی قرار دیا ہے لیکن انھوں نے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ ان کا ملک ایک ناکام ریاست ہے۔

چارلس مشیل نے بدھ کے روز برسلز میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ'' جب اس طرح کا کوئی حملہ ہوتا ہے تو یہ یقیناً ایک ناکامی ہوتا ہے اور کوئی بھی اس سے انکار نہیں کرسکتا ہے لیکن میں اس آئیڈیا کو قبول نہیں کرسکتا کہ ہم ایک ناکام ریاست ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''بن لادن کو روکنے میں دس سال لگے تھے''۔وہ القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کا حوالہ دے رہے تھے۔امریکا نائن الیون کے حملوں کے دس سال بعد ان کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوسکا تھا۔

واضح رہے کہ بیلجیئم لسانی اور سیاسی بنیاد پر منقسم ایک پیچیدہ ملک ہے۔اس پر یہ الزام عاید کیا جاتا رہا ہے کہ وہ نومبر میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں خودکش حملے کرنے والوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہا تھا حالانکہ انھوں نے برسلز میں بیٹھ کر ہی ان حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

چارلس مشیل کا کہنا تھا کہ ''ہم یورپ کے قلب میں ایک چھوٹا ملک ہیں اور یہاں سے کوئی بآسانی یورپ کے دوسرے ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی کرسکتا ہے''۔ انھوں نے سرحد پار انٹیلی جنس کے شعبے میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ اس شعبے میں ہمیں ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

22 مارچ کو برسلز کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ڈیپارچر ہال اور ایک میٹرو اسٹیشن پر خودکش بم دھماکوں میں بتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔شام اور عراق میں برسر پیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے ان بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔

واضح رہے کہ پیرس میں حملوں کے بعد بیلجیئن حکام مفرور حملہ آوروں کی تلاش میں تھے لیکن وہ ان کو پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔اس دوران وہ محفوظ پناہ گاہوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہنے ،بم بنانے اور دھماکے کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

پیرس میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوّث ایک حملہ آور صلاح عبدالسلام کو برسلز میں حملوں سے چار روز قبل گرفتار کیا گیا تھا۔اس نے دوران حراست پوچھ تاچھ میں ان حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔اب اس کو مزید تحقیقات کے لیے فرانس کے حوالے کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

ترکی نے بیلجیئم کو گذشتہ سال جولائی میں برسلز میں حملے کرنے والے ایک جنگجو ابراہیم البکراوی کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ وہ ایک غیر ملکی جنگجو ہے۔صدر رجب طیب ایردوآن کے بہ قول ترکی نے ابراہیم البکراوی کو نے جون 2015ء میں گرفتار کیا تھا اور پھر اس کو نیدر لینڈز ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔اس کی بے دخلی کی اطلاع انقرہ میں بیلجیئن سفارت خانے کو 14 جولائی 2015ء کو دی گئی تھی لیکن بیلجیئم نے ترکی کے اس شخص کے بارے میں انتباہ کو نظرانداز کردیا تھا۔ابراہیم البکراوی نے اپنے بھائی خالدالبکراوی کے ساتھ مل کر برسلز میں خودکش بم دھماکے کیے تھے۔