.

حج سکیورٹی پر مامورایرانی جاسوس پرغداری کا مقدمہ

سعودی اٹارنی جنرل کا سکیورٹی اہلکار کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حال ہی میں ایران کے لیے جاسوس کے الزام میں گرفتار کیے گئے بتیس افراد میں سے ایک حج کی سکیورٹی پر مامور رہا ہے۔ استغاثہ نے اس کے خلاف سنگین غداری کے الزام میں فرد جرم تیار کی ہے اور اٹارنی جنرل نے اس کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس ملزم کا نام بتیس مدعا علیہان میں سے تیسویں نمبر پر ہے۔ ان کے خلاف الریاض میں فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔اس پر الزام عاید کیا گیا ہے کہ اس نے ایران کے انٹیلی جنس عناصر کی شناخت خفیہ رکھی تھی اور اپنے سگے بھائی مدعا علیہ نمبر سات کے بارے میں بھی متعلقہ حکام کو آگاہ نہیں کیا تھا حالانکہ وہ ان کے مذموم ارادوں کے بارے میں بخوبی جانتا تھا۔

ملزم نے ایرانی انٹیلی جنس کے عناصر سے ملاقات کی تھی اور انھیں ایک فوجی کی حیثیت سے اپنے کام کی نوعیت کے بارے میں بتایا تھا۔حج سیزن کے دوران لوگوں کا تحفظ اور سلامتی اس کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔اس پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے مدعا علیہ نمبر 18 کے بارےمیں بھی متعلقہ حکام کو نہیں بتایا تھا حالانکہ اس کا اس سے قریبی رابطہ رہا تھا۔

اس مدعا علیہ نے منگل کے روز عدالت میں پیشی کے وقت اپنے خلاف عاید کردہ الزامات کا جج کو تحریری جواب دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنے وکلاء سے مل کر انھیں قانونی شکل میں پیش کرے گا۔اس لیے جج صاحب اس وقت تک ان پر غور نہ کریں۔

عدالت میں منگل کے روز مدعا علیہ نمبر انتیس کو بھی پیش کیا گیا تھا۔ اس پر ایران کے انٹیلی جنس عناصر کے ساتھ ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل اور سعودی عرب کے سماجی ڈھانچے کو تہس نہس کرنے کے لیے تعاون کا الزام ہے۔

اس پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے ان عناصر کو سعودی عرب کا سلامتی ،سماجی اور اقتصادی ڈیٹا فراہم کیا تھا۔ قطیف میں ہنگاموں میں بھی اس کا ہاتھ کارفرما تھا۔اس نے سعودی عرب کے بارے میں ایک اشتعال انگیز رپورٹ لکھی تھی اور اس میں ملک میں افراتفری پھیلانے کے لیے مظاہروں کی شہ دی گئی تھی۔

مدعا علیہان نے اس کیس میں پیروی کے لیے تین وکلاء مقرر کیے ہوئے ہیں لیکن وہ فروری میں اس مقدمے کی سماعت کے آغاز کے بعد سے ابھی تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے ہیں۔عدالت میں اب تک پندرہ تاریخوں پر اس مقدمے کی سماعت ہوچکی ہے۔

درایں اثناء فوجداری عدالت نے ایک شامی تارک وطن کو صدر بشارالاسد کی حکومت کے لیے جاسوسی کے جرم میں قصور وار قرار دے کر آٹھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔اس کو جیل کی مدت پوری ہونے کے بعد سعودی عرب سے بے دخل کردیا جائے گا۔

یہ اکتیس سالہ شامی مجرم مکہ میں حجام تھا۔ اس کو 2014ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس پر شامی حکومت کے لیے جاسوسی کے جرم میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اس نے سعودی عرب میں مقیم شامی تارکین وطن کے بارے میں اسد رجیم کو ڈیٹا فراہم کیا تھا اور شامی فوج کی حکومت مخالفین کے خلاف کارروائیوں کی ویڈیوز آن لائن جاری کی تھیں۔ اس پر سعودی مملکت ،اس کے حکمرانوں اور عوام پر رکیک حملوں کے الزام میں بھی فرد جرم عاید کی تھی۔عدالت نے اس کا کمپیوٹر ضبط کر لیا ہے اور قرار دیا ہے کہ اس کی قید کی مدت اس کی گرفتاری کے وقت سے شروع ہو گی۔