.

سینڈرس نے ہلیری کلنٹن کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگادیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار برنئی سینڈرس نے اپنی حریف ہلیری کلنٹن پر جوابی حملہ کرتے ہوئے ان کی اہلیت کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

ہلیری کلنٹن نے ایک روز پہلے برنئی سینڈرس کو آڑے ہاتھوں لیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا ریکارڈ درست نہیں ہے اور وہ صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہیں۔

سینڈرس نے فلاڈلفیا میں ٹیمپل یونیورسٹی میں دس ہزار سے زیادہ مجمع میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ''وہ یہ کہہ رہی ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ میں صدارت کے لیے اہل نہیں ہوں۔میں بھی یہ خیال نہیں کرتا ہوں کہ وہ خصوصی مفادات فنڈ سے کروڑوں ڈالرز لینے کے بعد صدارت کے لیے اہل ہیں''۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کلنٹن اس لیے بھی اہل نہیں ہیں کیونکہ انھوں نے عراق جنگ کے حق میں ووٹ دیا تھااور ایسے تجارتی سمجھوتوں کی حمایت کی تھی جو ان کے بہ قول امریکی ورکروں کے لیے ضرررساں ثابت ہوئے ہیں۔

ہلیری کلنٹن کے ترجمان برائن فالن نے سینڈرس کے ان سخت کلمات کے ردعمل میں ٹویٹر پر فوری جوابی بیان جاری کیا ہے اور لکھا ہے کہ ''ہلیری کلنٹن نے یہ نہیں کہا تھا کہ برنئی سینڈرس اہل نہیں ہیں بلکہ اب انھوں نے مضحکہ خیز انداز میں اپنی حریف کے بارے میں یہ سب کچھ کہہ دیا ہے۔یہ اخلاقی گراوٹ کا ایک نیا مظہر ہے''۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی سرکردہ صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے ایم ایس این بی سی کے ''مارننگ جو'' میں بدھ کی صبح انٹرویو کے دوران یہ نہیں کہا تھا کہ سینڈرس ''نااہل'' ہیں یا ''اہلیت نہیں رکھتے'' ہیں۔

اس گفتگو میں کلنٹن سے سینڈرس کے نیویارک ڈیلی نیوز میں شائع شدہ انٹرویو کے حوالے سے یہ پوچھا گیا تھا کہ ''کیا برنئی سینڈرس اہل ہیں اور امریکا کا صدر بننے کے لیے تیار ہیں؟''

اس کے جواب میں انھوں نے کہا:''بہتر ،میرے خیال میں انھوں نے اپنا کام نہیں کیا ہے۔وہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے ان چیزوں کے بارے میں باتیں کررہے ہیں جن کا انھوں نے بظاہر مطالعہ نہیں کیا ہے یا انھیں سمجھا نہیں ہے اور اس سے بہت سے سوالات پیدا ہوئے ہیں''۔

سینیٹر سینڈرس کے ترجمان مائیکل بریگس نے بدھ کی رات ایک بیان میں کہا ہے کہ سینڈرس سی این این اور واشنگٹن پوسٹ کی ویب سائٹس پر جاری کردہ رپورٹس کا جواب دے رہے تھے۔ان کی سرخی یہ تھی:''کیا سینڈرس صدارت کے اہل ہیں،کلنٹن کا سوال؟''

ہلیری کلنٹن نے سینڈرس کو نااہل قرار دیا ہے یا نہیں،مگر انھوں نے بدھ کو بھی اپنے حریف امیدوار پر حملے جاری رکھے ہیں۔''پولیٹیکو'' کے ساتھ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ''انھوں نے اپنے حریف سے زیادہ دیانت دارانہ انداز میں چیزوں کی وضاحت کی کوشش کی تھی''۔

بعد میں فلاڈلفیا میں ملازمت تربیتی مرکز میں انھوں نے کہا کہ لوگوں کو جاننا چاہیے کہ اگر وہ صدر منتخب ہو جاتی ہیں تو وہ کیا کریں گی،وہ صرف ہاتھ بلند کرکے نہیں ہلائیں گے اور بلند بانگ دعوے نہیں کریں گی''۔

امریکا میں صدارتی امیدوار کے طور پر پارٹی نامزدگی کے حصول کے لیے ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ایک دوسرے پر اسی طرح کے تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں۔وہ ایک دوسرے کے خلاف جائز وناجائز الزامات عاید کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔