.

قبرص: ڈرامے باز ہائی جیکر کو مصرکے حوالے کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#قبرص کے حکام نے 29 مارچ کو #مصر کا ایک مسافر بردار ہوائی جہاز اغواء کے بعد قبرص لے جانے والے مصری ہائی جیکر سیف الدین مصطفیٰ محمد کو #قاہرہ حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ مصطفیٰ محمد نامی ایک مصری شہری نے ڈرامائی انداز میں مصر کی ایک نجی ایئرلائن ’مصر ایئر‘ کا مسافر بردار ہوائی جہاز 29 مارچ 2016ء کو اسکندریہ سے قاہرہ جاتے ہوئے اغواء کرلیا تھا اور طیارے کا رخ قاہرہ کے بجائے قبرص کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔

قبرصی حکومت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ طیارہ ہائی جیکر 58 سالہ سیف الدین مصطفیٰ محمد کو مصر کے حوالے کرنے کے لیےقانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ جلد ہی ملزم کو مصر کے حوالے کردیا جائے گا۔

قبرصی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ہوائی جہاز کے اغواء میں ملوث مصری شہری کی قاہرہ حوالگی کے لیے چند ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔ جب تک اسے قاہرہ کے سپرد نہیں کیا جاتا اس وقت تک وہ قبرص پولیس کی حراست میں رہے گا۔

خیال رہے کہ انیتس مارچ کو ایک مصری شہری مصر کےشہر اسکندریہ سے قاہرہ جانے والے ایک مسافر طیارے کو اغواء کرکے قبرص لے گیا تھا۔ اغواء کار نے دھمکی دی تھی کہ اس نے خود کش جیکٹ پہن رکھی ہے۔ اس لیے اگر طیارے کا رخ تبدیلی نہیں کیا جاتا ہے تو وہ خود کو دھماکے سے اڑا دے گا۔ یوں طیارہ اپنی منزل کے بجائے 500 کلو میٹر دو قبرص کے ایک ہوائی اڈے پراتارنا پڑا تھا۔ بعد ازاں تفتیش سے پتا چلا کہ ملزم کا خود کش جیکٹ پہننے کا دعویٰ جھوٹ تھا۔

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے قبرصری حکام سے طیارے کے اغواء کار کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔ قبرصی حکام نے ملزم کو فوری طوپر حراست میں لینے کے بعد آٹھ روز ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا تھا۔

قبرص کا کہنا ہے کہ ملزم نفسیاتی مریض معلوم ہوتا ہے اور طیارے کے اغواء کا واقعہ دہشت گردی کیسز کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ دوران تفتیش ملزم کا کہنا ہے کہ اس نے طیارے کے اغواء کا ڈرامہ اس لیے رچایا تاکہ وہ قبرص میں موجود اپنی سابقہ بیوی اور بچوں سے ملاقات کرسکے۔