.

پاناما پیپرز : فرانسیسی میڈیا میں الجزائر مخالف مہم پر احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائری وزارت خارجہ نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے ان سے پاناما پیپرز کے افشاء کے بعد فرانسیسی میڈیا کی جانب سے الجزائر کے خلاف برپا کردہ مخالفانہ مہم پر احتجاج کیا ہے۔

فرانسیسی اخبار لی موندے نے منگل کے روز اپنے صفحہ اول پر الجزائری صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی ان لیڈروں کے ساتھ تصویر شائع کی تھی جن کے نام پاناما پیپرز میں آئے ہیں۔البتہ اس نے بعد میں یہ وضاحت کی ہے کہ الجزائری صدر کا نام پاناما پیپرز میں نہیں آیا ہے۔

الجزائر کی خبررساں ایجنسی اے پی ایس کی اطلاع کے مطابق ''وزیر خارجہ رمضان لمامرا نے فرانسیسی سفیر برنارڈ ایمی سے الجزائر اور اس کے اداروں کے خلاف پریس مہم پر سخت الفاظ میں احتجاج کیا ہے''۔

انھوں نے فرانسیسی حکام پر زوردیا ہے کہ وہ ''واضح طور پر اس مہم کے بارے میں اپنی ناراضی کا اظہار کریں کیونکہ یہ الجزائر اور فرانس کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی سطح اور معیار سے کوئی لگا نہیں کھاتی ہے''۔

الجزائری وزارت خارجہ میں فرانسیسی سفیر کو وزیراعظم مینول والس کے الجزائر کے دورے سے تین روز قبل طلب کیا گیا ہے۔ لی موندے نے پاناما پیپرز کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا تھا کہ الجزائر کے وزیر صنعت عبدالسلام بوشوآرب نے اپریل 2015ء میں پاناما میں ایک آف شور کمپنی قائم کی تھی۔اس کمپنی کے ذمے سات لاکھ یورو (آٹھ لاکھ ڈالرز) مالیت کے رئیل اسٹیٹ کے اثاثوں کا بندوبست کرنا تھا۔