.

اسرائیل کے بیچوں بیچ امریکا کا خفیہ فوجی اڈہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تل ابیب شہر کے اطراف میں ایک نسبتا وسیع مقام پر تیزی سے جاری تعمیر یقینا نظروں میں آنے والی سرگرمی ہے۔ اس غیر معمولی تعمیر کے پیچھے کہانی یہ ہے کہ یہاں امریکی فوج ایک خفیہ فوجی اڈہ بنانے میں مصروف ہے۔ میزائلوں سے محفوظ یہ اڈہ زمین کے اوپر ہونے کے ساتھ ساتھ زیر زمین بھی ہوگا۔ امریکی فوج یہاں پر پورے سال موجود رہنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

اس اڈے میں میزائلوں کا راستہ روکنے کے لیے فضائی دفاع کے امریکی یونٹ بھی شامل ہوں گے۔ ان کی ذمہ داری یہ ہوگی کہ اسرائیل اور اس کے داخلی محاذوں کی دور تک مار کرنے والے میزائلوں سے حفاظت کی جائے۔ ہدف کو درستی کے ساتھ زیادہ تباہ کن انداز سے نشانہ بنانے والے یہ میزائل اب ایران کے پاس بھی ہیں جن میں سے بعض میزائلوں کا اس نے کچھ عرصہ قبل تجربہ بھی کیا تھا۔ اس کے علاوہ حزب اللہ اور حماس بھی اس طرح کے میزائل رکھتی ہیں۔ امریکی اڈے کے بارے میں مطلع بعض باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اڈہ ڈیمونا کے نیوکلیئر ری ایکٹرز کی حفاظت کرنے والے ریڈار سسٹم سے براہ راست مربوط ہوگا۔

وقت کا اہم عامل

گزشتہ تین برسوں سے زیر تعمیر یہ خفیہ اڈہ اپنی تعمیر کے اگلے مراحل تک پہنچ چکا ہے۔ اڈے کے ذریعے ان بنیادی کمزور پہلوؤں سے نمٹا جائے گا جن کا انکشاف کچھ ہفتے قبل ختم ہونے والی امریکی اسرائیلی فوجی مشقوں "جینیفر كوبرا" کے دوران ہوا تھا۔ ان مشقوں کے دوران دونوں فوجوں نے انتہائی نوعیت کے منظرناموں کاجائزہ لیا تھا۔ ان میں اسرائیل پر بڑی تعداد میں میزائلوں کی بارش، امریکی فوج کا اسرائیل پہنچنا، دونوں فوجوں کے کنٹرول اینڈ مانیٹرنگ سسٹم کا تعلق، مقابلے کی منصوبہ بندی، دونوں فوجوں کے درمیان تعاون کا میکانزم شامل ہیں۔ یہ بات بالکل واضح تھی کہ مسئلہ اس بات کا ہے کہ امریکی افواج اور میزائلوں کا راستہ روکنے والے بحری جنگی جہازوں کے پہنچنے اور اسرائیلی ایئر ڈیفنس سسٹم کو معاونت فراہم کرنے میں طویل وقت درکار ہوگا۔ لہذا نیا فوجی اڈہ لوجسٹک رکاوٹوں سے دور رہتے ہوئے اسرائیل کو بہتر تحفظ فراہم کرسکے گا۔

میزائلوں کے خطرے کی نوعیت

اسرائیلی رپورٹوں کے مطابق حزب اللہ تقریبا 1 لاکھ 20 ہزار میزائل رکھتی ہے اور اسٹریٹجک ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

اس کے علاوہ حماس تنظیم آئندہ موسم گرما کے اختتام تک اپنے اسلحہ ڈپو کو اسی طرح کے راکٹوں سے بھر دے گی جو اس نے آخری جنگ میں استعمال کیے تھے۔ وہ سمندر کی سمت راکٹ تجربے کررہی ہے تاکہ ان کی مار کو بہتر کیا جاسکے۔ دوسری جانب ایران نے دور مار کرنے والے میزائلوں کاجدید ڈپو تیار کیا ہے۔ اس کے پاس اسکڈ میزائل بی، سی اور ڈی ہیں جن کی پہنچ 300 سے 700 کلومیٹر تک ہے۔