.

سعودی عرب : 23 کام خواتین کے لیے ممنوع قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کے مشرقی صوبے میں وزارت محنت کے معائنہ شعبے کے سربراہ سلطان المطیری نے "العربيہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا ہے کہ مملکت میں "23" شعبوں میں خواتین کی ملازمت کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ المطیری کے مطابق وزارت محنت کا نظام خواتین کے کام کی نوعیت کا خیال رکھتا ہے اور انہیں اسی شعبے میں کام کرنا چاہیے جو ان کی طبیعت سے میل رکھتا ہو جب کہ خطرناک نوعیت کے کاموں یا مضر صنعتوں میں ان پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وزارت محنت خواتین کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔

خواتین کے لیے ممنوعہ کام مندرجہ ذیل ہیں :

1. زیر زمین کام اور کان کنی۔

2. نکاسی آب اور پٹرولیئم مصنوعات۔

3. تعمیراتی کام مثلا کھدائی اور کنکریٹ ڈالنا۔

4. تعمیراتی، مرمتی اور رنگ و روغن کے کام جن میں انتہائی بلندی پر کام کرنا ہوتا ہے اور

پاڑ پر لٹکنا ہوتا ہے۔

5. معدنی لوازمات کو سودھنے کے لیے تیار کردہ بھٹیوں میں کام کرنا۔

6. وہ صنعتیں جن میں لوازمات کو منتقل کیا جاتا ہے مثلا بجلی پیدا کرنا وغیرہ۔

7. آتش گیر مادے کی صنعت اور اس سے متعلقہ کام۔

8. آکسیجن اور بجلی سمیت ہر قسم کی ویلڈنگ کا کام۔

9. گاڑیوں، لوہے اور المونیئم کے ورکشاپوں میں کام۔

10. جانوروں کی لید یا خون سے تیار کی گئی کھاد کے گوداموں میں کام۔

11. شیشے کو پگھلا کر اس کی مصنوعات تیار کرنے کا کام۔

12. بندرگاہ اور دیگر مقامات پر سامان کے لادنے اور اتارنے کا کام۔

13. ٹن اور 10 فی صد سے زیادہ سیسہ رکھنے والے دھاتی مرکبات کی صنعت۔

14. بجلی کی بیٹریوں کی تیاری یا مرمت کے کام۔

15. ربڑ کے لوازمات کی صنعتیں مثلا گاڑی کے ٹائر وغیرہ۔

16. چمڑے کی صنعت۔

17. جانوروں کی ہڈیوں سے کوئلہ تیار کرنے کی صنعت (ما سوا جلانے سے قبل ہڈیوں کی چھانٹی کرنا)

18. پارے کے ذریعے آئینوں کی قلعی۔

19. ڈوکو لوازمے سے رنگ و روغن۔

20. سیسے پر مشتمل راکھ کی ٹریٹمنٹ اور تیاری اور سیسے سے چاندی کو الگ کرنا۔

21. لیڈ مونو آکسائڈ یا یلو لیڈ آکسائڈ کی تیاری۔

22. ان ورکشاپوں کی صفائی جہاں کام جاری ہو۔

23. مشینوں کی دوران حرکت صفائی۔