.

لیبیا میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد میں دُگنا اضافہ

سخت گیر جنگجوؤں کو لیبیا میں مقامی ملیشیاؤں کی مزاحمت کا سامنا ہے: امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں گذشتہ ایک سال کے دوران داعش کے جنگجوؤں کی تعداد بڑھ کر دُگنا ہوگئی ہے۔ امریکا کی افریقی کمان کے کمانڈر آرمی جنرل ڈیوڈ روڈریگوز نے کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کی تعداد قریباً چھے ہزار ہوچکی ہے اور وہ امریکا اور دوسری مغربی اقوام پر حملوں کی بھی خواہشات رکھتے ہیں۔

امریکی جنرل نے پینٹاگان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں کو خانہ جنگی کا شکار ملک میں مقامی ملیشیاؤں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا ہے اور انھوں نے بن غازی اور صبراتہ میں داعش کے بڑھتے ہوئے قدم روک دیے ہیں۔ان دونوں شہروں میں ان کے درمیان وقفے وقفے سے لڑائی جاری ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لیبیا میں قومی حکومت کے قیام کا انتظار کیا جارہا ہے اور اس کے بعد انھیں اسلحہ مہیا کیا جاسکتا ہے۔امریکا کے دفاعی عہدے داروں کے مطابق عراق اور شام کے باہر آٹھ مقامات پر داعش کے جنگجو برسرپیکار ہیں اور لیبیا میں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

امریکا نے حالیہ مہینوں کے دوران لیبیا میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف دو فضائی حملے کیے ہیں لیکن روڈریگوز کا کہنا ہے کہ یہ صرف ان جنگجوؤں کے خلاف کیے گئے تھے جن سے امریکی مفادات کو خطرہ لاحق تھا۔ان کا کہنا ہے کہ لیبیا میں اگر نئی حکومت بن جاتی ہے تو امریکا داعش کے خلاف مزید حملے کرسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں لیبیا میں حال ہی میں قومی اتحاد کی حکومت تشکیل پائی ہے لیکن اس کے وزیراعظم فایزالسراج کو ابھی تک طرابلس میں فجر لیبیا کے تحت حکومت کے وزیراعظم خلیفہ الغویل نے اقتدار منتقل نہیں کیا ہے۔امریکا اور اس کے اتحادیوں کو توقع ہے کہ اگر یہ حکومت قائم ہوجاتی ہے تو وہ تمام متحارب دھڑوں کو اکٹھا کرسکے گی۔وہاں افراتفری کا خاتمہ ہوگا کیونکہ اسی بدامنی کے ماحول میں داعش کو سر اٹھانے کا موقع ملا تھا۔

جنرل روڈریگوز کا کہنا ہے کہ یہ داعش کے لیے ایک چیلنج ہوگا کہ وہ لیبیا میں بھی عراق اور شام جیسا بڑا خطرہ بن سکے کیونکہ اس کو مقامی لیبی جنگجوؤں کی جانب سے مخالفت کا سامنا ہے اور آبادی بھی غیرملکی گروپوں کی ملک میں موجودگی کی مخالف ہے۔

انھوں نے کہا کہ لیبیا میں ملیشیاؤں نے دوسرے بڑے شہر بن غازی اور درنا میں کامیابی سے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ لڑی ہے،صبراتہ میں ان کے درمیان خونریز لڑائی ہوئی ہے لیبی ملیشیا نے محدود کامیابی حاصل کی ہے لیکن سرت میں داعش کو شکست دینے میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔