.

پاناما پیپرز :کیمرون کا آف شورفنڈ سے منافع لینے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کے والد مرحوم کے ایک آف شور ٹرسٹ میں حصص تھے لیکن انھوں نے ان کو فروخت کردیا تھا۔

برطانوی وزیراعظم نے یہ اعتراف ایک قانونی فرم کی کروڑوں دستاویزات کے ''پاناما پیپرز'' کے نام سے افشا کے بعد کیا ہے۔انھوں نے آئی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ان کے پاناما میں رجسٹر بلئیر مور انوسٹمنٹ ٹرسٹ میں تیس ہزار پاونڈز مالیت کے پانچ ہزار حصص تھے۔انھیں جنوری 2010ء میں فروخت کردیا گیا تھا''۔

ڈیوڈکیمرون نے انٹرویو میں مزید کہا کہ ''میں نے ان حصص کا انکم ٹیکس ادا کیا تھا۔ان پر منافع بھی حاصل ہوا تھا لیکن اس کی مالیت واجب الادا ٹیکس سے کم تھی،اس لیے میں نے اس منافع پرٹیکس ادا نہیں کیا تھا''۔

سکائی نیوز نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون بہت جلد اپنے ٹیکس گوشوارے شائع کرنے والے ہیں۔ان کے والد آئین کا نام بھی پاناما کی قانونی فرم موساک فونسیکا کی افشاء ہونے والی دستاویزات میں دیگر ہزاروں مال دار لوگوں کے ساتھ آیا ہے۔

ان دستاویزات سے دنیا بھر کے ارباب اقتدار وسیاست اور مال دار لوگوں کے بارے میں یہ انکشافات ہوئے ہیں کہ وہ کس طرح ٹیکسوں سے بچنے کے لیے اپنی دولت کو چھپاتے رہے ہیں۔پاناما کی مذکورہ فرم آف شور کمپنیوں کے قیام میں خصوصی مہارت کی حامل ہے۔آف شور کمپنیاں بالعموم ٹیکس بچانے کے لیے قائم کی جاتی ہیں لیکن ان کے مالکان افراد اور کارپوریشنوں کے پاس ایسا کرنے کے دوسرے متعدد جواز بھی موجود ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ڈیوڈ کیمرون ،ان کی اہلیہ اور بچے فی الوقت کسی آف شور فنڈ سے کوئی فائدہ نہیں لے رہے ہیں۔

بدھ کو ترجمان نے ایک اور بیان میں کہا کہ ''ایسا کوئی آف شور فنڈ یا ٹرسٹ موجود نہیں ہے جس سے وزیراعظم، مسز کیمرون یا ان کے بچے مستقبل میں فائدہ اٹھائیں گے''۔