.

حزب اللہ کی شام میں مستقل پنجنے گاڑنے کی سازش

لبنانی سرحدی شہر القصیر میں حزب اللہ کا اہم اڈہ اور بارود فیکٹریاں قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں سنہ 2011ء میں صدر #بشار_الاسد کے مظالم کے خلاف برپا ہونے والی انقلابی تحریک کچلنے کے لیے اسد رجیم اور ان کے علاقائی دہشت گردوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ بغاوت کی تحریک کچلنے میں مدد فراہم کرنے والوں میں #لبنان کی #ایران نواز شیعہ ملیشیا #حزب_اللہ بھی پیش ہے جس کے سیکڑوں جنگجو اس وقت شام کے محاذ جنگ پر موجود ہیں۔

ایک رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ حزب اللہ شام میں صدر بشارالاسد کے دفاع کے لیے نہیں لڑ رہی ہے بلکہ اس کا اصل مقصد شام کی سرزمین پر مستقل بنیادوں پر اپنے پنجے گاڑنا ہے۔

ویب پورٹل ’’اسٹرانفورڈ‘‘ نے مستند معلومات کی روشنی میں ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ حزب اللہ نے شام اور لبنان کی سرحد پر #القصیر شہر میں ایک فوجی اڈہ قائم کر رکھا ہے۔ حزب اللہ سنہ 2013ء سے شام کے اس علاقے پر قابض ہے اور اس نے اپنی عسکری سرگرمیوں کے لیے قائم کردہ فوجی اڈے کو شام میں مستقل قیام کے لیے ایک اہم مرکز بنانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں حزب اللہ کی مداخلت کی پالیسی کے پس پردہ ملک شام میں اپنا اثرو نفوذ بڑھانا اور بشار الاسد کے دفاع کے لیے لڑنے کے ساتھ ساتھ ملک کے طول وعرض میں اپنا وسیع نیٹ ورک قائم کرنا بھی شامل ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی باغیوں کے سامنے پے درپے شکست سے فایدہ اٹھاتے ہوئے حزب اللہ نے اپنے متوازی اڈے قائم کرنے کا سلسلہ کئی سال سے شروع کر رکھا ہے مگر لبنان اور شام کی سرحد پر واقع القصیر کے علاقے میں فوجی اڈہ نہ صرف حزب اللہ کے جنگجوؤں کی آمد ورفت کا مرکز ہے بلکہ وہاں پر ایک بارود فیکٹری بھی قائم کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ حزب اللہ نے اپنے اس فوجی اڈے پر کاتیوشاراکٹ، توپیں، ہاون اور ہاؤٹرز راکٹوں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں ٹینک بھی منتقل کررکھے ہیں۔ فوجی اڈے پر کم سے کم بارود تیار کرنے والے چار الگ الگ کارخانے قائم ہیں۔

شام میں مستقل قیام کی غرض سے بڑی تعداد میں جگجو بھی اس اڈے پر موجود ہیں جب کہ مجموعی طور پر شام میں لڑنے والے حزب اللہ جنگجوؤں کی تعداد 3000 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

لبنان کی سرحد پر واقع ہونے کے باعث حزب اللہ نے اپنے فوجی اڈے سے لبنان کے اندر تک زمین دوز سرنگیں بھی کھود رکھی ہیں اور اس کے جنگجو ان سرنگوں کو آمد و رفت اور اسلحہ کی منتقلی کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اعلیٰ عہدیدار بھی القصیر کے مقام پر قائم کردہ حزب اللہ کے فوجی مراکز کا کئی بار دورہ کرچکے۔