.

دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے کا سعودی عزم

پاکستانی شدت پسند گروپ اور شخصیات بلیک لسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#سعودی_عرب کی حکومت نے #دہشت_گردی کی لعنت سے نمٹںے کے لیے عالمی برادری بالخصوص #امریکا کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کو سپورٹ کرنے پر پاکستانی گروپوں تحریک #طالبان پاکستان، #لشکر_طیبہ اور #القاعدہ کو بلیک لسٹ قرار دینے کے ساتھ ان گروپوں کی مالی مدد کرنے والے چارافراد پر پابندیوں کے امریکی فیصلے کی حمایت جاری رکھی جائے گی، کیونکہ ان گروپوں کے خلاف کارروائی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کاحصہ ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل #منصور_الترکی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا اور سعودی عرب کا موقف ایک ہے۔ دہشت گردوں کی مادی اور معنوی مدد کرنے والوں پر پابندیوں کے نفاذ کے لیے سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے ہونے والی کوششیں سلامتی کونسل کی قرارداد 1373 مجریہ 2001ء پر عمل درآمد کا حصہ ہے۔ سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی کے حوالے سے منظور کردہ قراردادوں میں وضاحت کی گئی ہے کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل میں حمایت اور مدد کرنے والی قوتوں اور افراد کو پوری قوت سے کچل دیا جائے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف یکساں موقف اختیار کرنے سے متعلق تازہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پچھلے ماہ [مارچ 2016ء] کو امریکا اور سعودی عرب نے مشترکہ طور پر پاکستان میں سرگرم لشکر طیبہ کی مالی مدد کرنے والے چھ افراد اور تنظیموں کو بلیک لسٹ کرتے ہوئے ان پر پابندیاں عاید کی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے پر پابندیوں کا سامنا کرنے والے چار افراد اور اداروں میں برطانوی جیمز ماکلینٹوک، الرحمہ ویلفیئر فاؤنڈیشن، عبدالعزیز نورستانی، العصریہ اسکول فاؤنڈیشن، نافیید قمر اور محمد اعجاز سفاریش کے نام شامل ہیں۔

پاکستانی تنظیموں پر پابندی

پاکستان میں سنہ 2001ء کے بعد کئی اداروں اور شخصیات پر دہشت گردی کی مالی امداد کے الزامات کے تحت پابندیاں عاید کی گئی تھیں۔ پابندیوں کا سامنا کرنے والی تنظیموں میں سخت گیر تنظیم لشکر طیبہ پر اپریل سنہ 2015ء میں امریکا نے پابندی عاید کی۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت پاکستان میں کام کرنے والے ادارے ’الفرقان فاؤنڈیشن اینڈ ویلفیرٹرسٹ‘ کے نام خاص طور پر شامل ہیں۔

الفرقان فاؤنڈیشن کا صدر دفتر خیبر پختون خواہ کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع ہے اور یہ تنظیم افغان سپورٹ کمیٹی کی مالی معاونت کرتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ Pakistan- Revival of Islamic Heritage Society نامی تنظیم پر سنہ 2002ء میں امریکا میں پابندیاں عاید کی گئی تھیں۔

انہی گروپوں پر اب سعودی عرب کی جانب سے بھی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الفرقان فاؤنڈیشن سمیت دوسرے گروپوں کو بلیک لسٹ قرار دینے سے دہشت گردی کے عالمی سطح پر مالی مدد کرنے والے نیٹ ورک کی بیخ کنی میں مدد ملے گی۔

پاکستان کی وزارت مذہبی امور کے ترجمان قمر ساجد نے سعودی عرب کی جانب سے دہشت گرد گروپوں پر پابندیوں کے فیصلے پرتبصرہ کرئے ہوئے کہا ہے کہ ریاض حکومت کا فیصلہ دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی تعاون کا حصہ ہے۔ سعودی عرب نے دوست ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف ہرمحاذ پر لڑنے کا عزم کیا ہے اور #پاکستان میں سرگرم گروپوں کی مالی امداد روکنے کے لیے تازہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف دو طرفہ تعاون کا حصہ ہیں۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ لشکر طیبہ پر پابندی کا فیصلہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ماضی میں بھی اس تنظیم پر پابندیاں عاید کی جاتی رہی ہیں۔

بلیک لسٹ ہونے والے دہشت گردی کےمعاونین کون؟

سعودی عرب اور امریکا کی جانب سے پاکستانی دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کرنے پر بلیک لسٹ کیے جانے والے چار افراد کا مختصر تعارف بھی پیش ہے۔

1.برطانوی نژاد جیمز ماکلینٹوک

امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے الزام عاید کیا گیا ہے کہ مذکوری برطانوی شہری القاعدہ کی مالی مدد کرتے رہے ہیں۔ 52 سالہ ماکلینٹوک نے سنہ 2004ء میں افغانستان کا سفر کیا اور دہشت گردوں سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔ وہ خود بھی اس سے قبل افغانستان اور بوسنیا میں لڑتا رہا ہے۔ انہوں نے سنہ 2011ء اور 2012ء کے عرصے میں افغان بچوں کی بہبود کی آڑ میں 1 لاکھ 25 ہزار آسٹریلوی پاؤنڈز کی رقم جمع کی تھی جسے دہشت گرد گروپوں کو دیا گیا۔ جیمز نے 20 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا اور اپنا اسلامی نام یعقوب ماکلینٹوک رکھا اور اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان میں بھی مقیم رہا۔

2۔ عبدالعزیز نورستانی

نورستانی پر بھی کئی سال تک ایک خفیہ پاکستانی تنظیم کے لیے فنڈز جمع کرنے اور دہشت گردوں تک مالی امداد پہنچانے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ مالی امداد کے ساتھ ساتھ اس نے دہشت گردوں کو ٹیکنالوجی کے آلات کی فراہمی میں بھی مدد کی۔

3 نافید قمر

موصوف سنہ 2004ء سے کراچی سمیت ملک کےمختلف شہروں میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت میں بھی دہشت گردی کے لیے مالی معاونت فراہم کی۔

بلیک لسٹ کی گئی چوتھی اہم شخصیت محمد اعجاز سفاریش ہیں۔ ان پر لشکریہ طیبہ کے ارکان کو سعودی عرب سے مالی امداد پہنچانے اور جنگجوؤں کو سفری دستاویزات کی تیری میں معاونت کے الزامات کے تحت بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔