.

سپین : پیرس میں حملے کے لیے اسلحہ مہیا کرنے والا فرانسیسی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سپین میں پولیس نے اسلحے کی اسمگلنگ میں ملوّث ایک رنگ کے سرغنہ فرانسیسی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔اسی رنگ نے مبینہ طور پر جنوری 2015ء میں پیرس میں توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے میگزین چارلی ایبڈو کے دفاتر پر حملے میں ملوّث ایک جنگجو کو اسلحہ مہیا کیا تھا۔دہشت گردی کے اس واقعے میں سترہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہسپانوی پولیس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ گرفتار ستائیس سالہ انٹونی ڈینوی کا تعلق فرانس کے شمال میں واقع ایک چھوٹے قصبے سے ہے۔اس کو منگل کے روز جنوبی علاقے ملاقا سے گرفتار کیا گیا ہے۔اس کے خلاف فرانس نے یورپ بھر کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کررکھے تھے۔

پولیس نے کہا ہے کہ یہ شخص پیرس حملوں کے چند ہفتے کے بعد پڑوسی ملک فرانس سے گرفتاری سے بچنے کے لیے سپین آگیا تھا اور صوبے ملاقا میں مقیم ہوگیا تھا جہاں اس نے اپنی غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس شخص کی سرگرمیوں کا تعلق سربیا نژاد لوگوں سے تھا۔انھوں نے ہی ممکنہ طور پر اس کو اسلحہ اور گولہ و بارود تک رسائی کے لیے سہولت مہیا کی تھی''۔

ڈینیوی کے بارے میں شُبہ ہے کہ اس نے آمدی کولیبالی کو اسلحہ مہیا کیا تھا۔اس مشتبہ جنگجو نے ایک خاتون پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا اور یہودیوں کے ملکیتی ایک سپر مارکیٹ میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔بعد میں ان میں سے چار افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

کولیبالی چارلی ایبڈو کے دفاتر پر دھاوا بولنے والے کواشی برادران کا ساتھی تھا۔کواشی برادران نے توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے میگزین کے دفتر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔اس حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ان تینوں کو تین روز بعد پولیس نے الگ الگ عمارتوں میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا تھا۔

ہسپانوی اور فرانسیسی پولیس دونوں نے منگل کے روز مشتبہ افراد کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ہے اور انھوں نے دو اور مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ان میں سے ایک سربیا اور ایک مونٹی نیگرو سے تعلق رکھتا ہے۔ ڈینیوی کو گرفتاری کے فوری بعد دارالحکومت میڈرڈ منتقل کردیا گیا ہے۔اس کو وہاں آج نیشنل کورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔یہ عدالت انتہا پسندی سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔

ایک عدالتی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس مشتبہ شخص نے کولیبالی کو اسلحہ فروخت کرنے کی تردید کی ہے اور اس امر سے اتفاق کیا ہے کہ اس کو فرانس کے حوالے کردیا جائے۔