.

اسلامی سربراہ کانفرنس.. ایران سے مداخلت روکنے کا مطالبہ ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"العربیہ" نیوز چینل نے جمعرات سے ترکی کے شہر استنبول میں شروع ہونے والے 13ویں اسلامی سربراہ اجلاس کے اختتامی اعلامیے کے مسودے کی کاپی حاصل کرلی ہے۔

اس مسودے میں شامل نمایاں نکات ذیل میں دیے جارہے ہیں جن کے بارے میں "العربیہ" کو معلوم ہوا ہے کہ یہ اختتامی بیان میں شامل کیے جائیں گے :

· ایران کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات اچھی ہمسائیگی، داخلی امور میں عدم مداخلت، پڑوسی ممالک کی سیادت اور خودمختاری کے احترام اور اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی بنیاد پر ہوں۔

· تہران اور مشہد میں سعودی سفارتی مشنوں پر حملوں کی مذمت۔

· کانفرنس میں ایران کے ان اشتعال انگیز بیانات کو یکسر مسترد کردیا گیا جو اس نے سعودی عرب میں دہشت گردی کے مجرموں کے خلاف عدالتی فیصلوں پر عمل درامد سے متعلق دیے تھے۔

· کانفرنس میں خطے کے ممالک اور دیگر رکن ممالک (بحرین، یمن، شام، صومالیہ) کے داخلی امور میں ایران کی مداخلت اور اس کی جانب سے دہشت گردی کی بدستور حمایت کی مذمت کی جائے گی۔

· شام کی قومی وحدت ، خودمختاری، سیادت اور علاقائی سلامتی برقرار رکھنے اور شامیوں کے زیرقیادت اقتدار کی سیاسی منتقلی پر عمل درآمد کے لیے جنیوا اعلامیے کی بنیاد پر تصفیے کے لیے کانفرنس کی حمایت کی ضرورت پر زور۔

· شام کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 کا خیرمقدم اور حمایت کا اظہار۔اس میں شام میں امن کے عمل کے سلسلے میں بین الاقوامی روڈ میپ کی حمایت کی گئی ہے۔

· کانفرنس میں لیبیا کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2259 کا خیرمقدم کیا گیا ہے جس میں لیبیا کے حکام کی عبوری ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔

· کانفرنس میں الصخیرات میں لیبیا کے سیاسی معاہدے پر دستخط اور صدارتی کونسل اور وفاق کی قومی حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کیا گیا۔

· کانفرنس میں تمام ممالک پر لیبیا کے داخلی امور میں عدم مداخلت کے حوالے سے زور دیا گیا۔ ان میں مسلح جماعتوں کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی، اشتعال انگیزی اور تشدد کے لیے میڈیا کا استعمال اور سیاسی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔

· عراقی حکومت کے لیے مکمل سپورٹ تاکہ وہ دہشت گرد جماعتوں اور داعش کے وجود کا خاتمہ کرسکے۔

· یمن میں آئینی طریق کار کے جاری رہنے اور سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے سیاسی عمل کے دوبارہ شروع کیے جانے کی حمایت۔ ایسا حل جو خلیج تعاون کونسل کے منصوبے اور یمنی قومی مکالمہ کانفرنس کے نتائج کی بنیاد پر قائم ہو۔

· کانفرنس میں یمن سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں بالخصوص 2201 کی پاسداری پر زور۔ اس قرارداد میں یمن میں آئینی حکومت کی حمایت اور سیاسی عمل میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 کی حمایت جس میں حوثیوں سے تمام مقبوضہ علاقوں سے انخلاء کا مطالبہ اور ان کو اسلحے کی فراہمی پر پابندی کافیصلہ کیا گیا ہے۔

· کانفرنس میں انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں سعودی عرب اور رکن ممالک کی کوششوں کی تائید کی گئی اور دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد کے لیے حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تمام رکن ممالک کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی۔

· کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ تمام رکن ممالک کے لیے سب سے بڑی ترجیح ہے۔

· کانفرنس میں جلد از جلد ایک بین الاقوامی امن کانفرنس منعقد کرنے پر زور دیا گیا تاکہ فلسطینی عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور 1967 سے فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے میکانزم وضع کیا جاسکے۔

· کانفرنس میں لبنانی سیاسی فریقوں کے درمیان بات چیت کا خیرمقدم کیا گیا اور رکن ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ لبنانی فوج اور سیکورٹی فورسز کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے حمایت کریں تاکہ وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف برسرجنگ رہتے ہوئے اپنی مطلوبہ ذمہ داریاں سرانجام دے سکیں اور لبنان میں قومی امن اور استحکام کو یقینی بنا سکیں۔

· کانفرنس میں آذربائیجان کے خلاف جمہوریہ آرمینیا کی جارحیت کی مذمت کی گئی اور آرمینیا پر زور دیا گیا کہ وہ نگورنا کاراباخ سے اپنی فوجوں کو فوری طور پر نکالے۔

· کانفرنس میں افغانستان میں قومی یکجہتی کی حکومت کی حمایت کی گئی اور افغانستان میں جاری امن اور مصالحت کی کوششوں کا خیرمقدم کیا گیا۔

· جموں و کشمیر کے عوام اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کے حق خود ارادیت کے لیے اصولی حمایت کا اظہار کیا گیا۔ ساتھ ہی بھارت کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ بھارت مزاحمت اور دہشت گردی میں فرق کرے۔

اسلامی سربراہ اجلاس کے اختتامی بیان کا مسودہ (جس کی کاپی العربیہ نیوز چینل کو بھی موصول ہوئی ہے) 37 صفحات اور 196 فیصلوں پر مشتمل ہے۔