.

امریکا : سان برنرڈینو حملہ آور کا آئیفون کیسے کریک ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کا کہنا ہے کہ امریکی تحقیقاتی ادارے "ایف بی آئی" نے امریکا کے شہر سان برنرڈینو میں ہونے والے واقعات کے ایک حملہ آور کا آئی فون کریک کرنے کے لیے پیشہ ور ہیکرز کی خدمات حاصل کیں۔ ان ہیکرز نے فون میں موجود سابقہ سافٹ ویئر کا کم از کم ایک نقص دریافت کیا جس کے ذریعے وہ آئی فون کو ڈی کوڈ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

اخبار نے معاملے کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیکروں نے مذکورہ نقص جاننے کے بعد ایک ایسا ہارڈویئر تیار کیا جس کے ذریعے ایف بی آئی نے آئی فون میں موجود چار ہندسوں کا ذاتی شناخت کا نمبر کریک کرلیا۔ یہ کارروائی موبائل کے اندر محفوظ ڈیٹا کو مکمل طور پر حذف کرنے کا آپشن استعمال کیے بغیر ہی عمل میں آگئی۔

امریکی اخبار نے مزید بتایا کہ "ایف بی آئی" کو چار ہندسوں کا پِن کوڈ کریک کرنے میں زیادہ مشکل نہیں پیش آئی تاہم اصل چیلنج یہ تھا کہ ڈیٹا حذف کرنے والے آپشن کو ناکارہ کس طرح کیا جائے۔ اس سے قبل پن کوڈ ڈالنے کے لیے دس ناکام کوششیں کی جاچکی تھیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر کی ابتدا میں پاکستانی نژاد سید فاروق نے اپنی بیوی تاشفین کے ساتھ مل کر کیلی فورنیا کے شہر سان برنرڈینو میں 14 افراد کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا، بعد ازاں دونوں حملہ آور بھی پولیس کے ہاتھوں مارے گئے۔

امریکی حکومت نے ایک حملہ آور کے آئی فون کو ڈی کوڈ کرنے پر ایپل کمپنی کو مجبور کرنے کے لیے عدالت سے بھی رجوع کیا تھا۔ تاہم کمپنی نے اس ہدایت کو مسترد کرتے ہوئے باور کرایا تھا کہ اس سے صارف کی پرائیویسی کو شدید خطرہ پہنچے گا۔ ایپل کمپنی کے اس موقف کی بڑی عالمی کمپنیوں گوگل اور فیس بک وغیرہ نے بھی بھرپور تائید کی تھی۔

امریکی ایف بی آئی نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ ایک تیسرے فریق کی مدد سے آئی فون کو کریک کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے تاہم ایپل کمپنی کی جانب سے قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے اس تیسرے فریق کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تھی۔