.

مسلح بلوچی تنظیموں کی سرگرمیاں.. ایران گہری تشویش کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے ملک میں مسلح بلوچی تنظیموں کی ان بڑھتی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں وہ ایران کے جنوب مشرق میں واقع علاقے بلوچستان میں پاسداران انلقلاب اور سیکورٹی فورسز کو حملوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز نے منگل کے روز سے علاقے میں وسیع پیمانے پر مشقوں کا آغاز کیا ہے۔ ادھر وزیر داخلہ نے سیکورٹی، انٹیلجنس اور ایران اور پاکستان کے درمیان واقع صوبوں کے سینئر ذمہ داران کا اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔ یہ اجلاس آئندہ تین ہفتوں کے اندر تہران میں منعقد ہوگا۔

"فارس" نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی کا کہنا ہے کہ مذکورہ اجلاس کا مقصد مسلح تحریکوں کا سامنا کرنے اور سرحد کے مابین اسمگلنگ کی کارروائیوں روکنے کے لیے کوششوں میں تعاون کو یقینی بنانا ہے۔

یاد رہے کہ متعدد بلوچی تنظیمیں مثلا "جيش العدل"، "جيش النصر" اور "الفرقان" وغیرہ پاسداران انقلاب اور سیکورٹی فورسز کے خلاف برسرجنگ ہیں۔ ان تنظیموں کا موقف ہے کہ عسکری کارروائیاں "فرقہ واریت اور نسل پرستی" پر مبنی ان اقدامات کے جواب میں ہیں جو ایرانی حکومت اہل سنت (سنیوں) اور بلوچی عوام کے خلاف کرتی چلی آرہی ہے۔ بلوچیوں کو تمام ایرانی قومیتوں میں غریب ترین شمار کیا جاتا ہے۔

ان گروپوں کی ایرانی پاسداران انقلاب اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ مسلح جھڑپوں کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں گزرے عرصے کے دوران جانبین کے درجنوں ارکان ہلاک ہوچکے ہیں۔

حملے روکنے کے لیے مشقیں

اسی سلسلے میں پاسداران انقلاب کی زمینی فورسز نے جن کے پاس ایران اور پاکستان کے درمیان سرحد کی سیکورٹی بھی ہے، ایرانی بلوچستان کے علاقے میر جاوہ میں مسلسل دوسرے روز بھی مشقیں کیں۔ مشقوں کا مقصد دراندازی کی کارروائیاں روکنا اور مسلح گروپوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ بات پاسداران کی زمینی فورسز کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے ایک بیان میں بتائی۔

"فارس" نیوز ایجنسی کے مطابق پاکپور کا کہنا ہے کہ "ہم ان مشقوں میں سیکورٹی کارروائیاں سرانجام دے رہے ہیں جن میں پاسداران انقلاب کے ہیلی کاپٹر وسیع پیمانے پر شریک ہیں اور دشمن کے ٹھکانوں پر میزائل بھی داغے جارہے ہیں"۔

قبائل کو ہم خیال بنانے کی کوشش

بلوچی قبائل میں لابنگ کے لیے پاسداران انقلاب کے ڈپٹی جنرل کمانڈر جنرل حسین سلامی اور زمینی فورسز کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے بلوچستان میں سنی قبائل کے سرداروں اور عمائدین میں سے 30 شخصیات کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا۔

دونوں فوجی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا مقصد "ملک کے جنوب مشرق میں مسلح افراد کے انسداد کے لیے قبائل اور عسکری فورسز کے درمیان تعاون شروع کرانا ہے"۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران ایرانی فوجی اور سیکورٹی ذمہ داران نے دو علاقوں بلوچستان اور کردستان میں امن و امان کی صورت حال بگڑنے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ مرکزی حکومت کی مخالف مسلح تنظیموں کی سرگرمیاں ہیں، یہ تنظیمیں غیر فارسی بان عوام کے لیے قومی حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں۔