.

ترکی فرار ہونے والے منحرف ہواباز کے اہل خانہ ایران میں زیرحراست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں ایرانی انٹیلجنس کے ایجنٹوں کی جانب سے اغوا کی کوشش کا نشانہ بننے والے ایرانی منحرف ہوا باز رضا خسروی نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حکام نے اس کے اہل خانہ کو حراست میں رکھا ہوا ہے اور انہیں ملک سے باہر جانے سے بھی روک دیا ہے۔ خسروی نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی بیوی اور بیٹے کے خلاف یہ کارروائیاں جاری رہیں تو وہ اسرائیل سے رجوع کرے گا۔

ترکی کی ایک عدالت نے گزشتہ ہفتے ایرانی انٹیلجنس کے دو ایجنٹوں عبدالسلام تاتاری اور محمد محمدیان کو 6 سال اور 8 ماہ قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ دونوں افراد پر ایران کے لیے جاسوسی کرنے اور ترکی میں ایرانی ہواباز خسروی کو اغوا کرنے کی کوشش کے الزامات تھے۔

ایرانی میڈیا نے ملک کے سیکورٹی فورسز کے ہیلی کاپٹر یونٹ کے ہواباز میجر احمد رضا خسروی کے حوالے سے اسرائیلی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے۔ خسروی ایرانی سیکورٹی فورسز سے علیحدگی کا اعلان کرچکا ہے۔ وہ گزشتہ سال فرار ہو کر ترکی پہنچ گیا تھا۔

خسروی کا تعلق ایران کے وسطی شہر خمین سے ہے۔ وہ 1977ء میں پیدا ہوا اور 18 برس کی عمر میں ایرانی پولیس اکیڈمی میں داخل ہوا۔ بعد ازاں ایرانی سیکورٹی فورسز کے ہیلی کاپٹر یونٹ سے وابستہ ہوگیا۔

رضا خسروی نے اسرائیلی میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ "اگر تہران حکومت نے ایران میں اس کے گھروالوں کے خلاف ڈرانے دھمکانے کی کارروائیوں کو نہیں روکا تو وہ اسرائیل سے پناہ طلب کرے گا اور اسرائیلی حکومت کے ساتھ ملک کر اعلانیہ طور پر ایرانی نظام کے خلاف کام کرے"۔ خسروی کے مطابق حکومت کے ساتھ نظریاتی اختلافات کی وجہ سے اس نے کئی بار فوج سے سبک دوش کیے جانے کی درخواست کی تھی۔ تاہم ہر بار اس کی درخواست کو مسترد کیا جاتا رہا جس کے بعد مارچ 2015 میں وہ ترکی فرار ہوگیا۔

خسروی کا کہنا ہے کہ اس نے 19 برس سیکورٹی اداروں میں خدمات انجام دیں تاہم ایرانی حکومت کے ساتھ اختلافات کے سبب اپنی ملازمت سے سبک دوشی کا فیصلہ کیا۔

اس نے باور کرایا کہ وہ مستعفی ہونے پر مصر تھا مگر متعدد بار اس سے انکار کردیا گیا۔ اس کی تمام تر سرگرمیاں اور نجی زندگی شدید نوعیت کی نگرانی کی زد میں تھیں، اس کی کوئی ذاتی زندگی نہیں تھی یہاں تک کہ اس کی بیوی کا فون بھی زیرنگرانی تھا۔

منحرف ہواباز نے اقوام متحدہ کے زیرانتظام امور پناہ گزین کے کمیشن کے ذریعے ترکی میں پناہ کی درخواست کی۔ اس نے کمیشن میں ایک اعلی اہل کار سے ملاقات میں اپنا مسئلہ تفصیل سے بیان کیا اور واضح کیا کہ پاسپورٹ نکلوانے کی اجازت نہ ہونے کے سبب وہ کس طرح چھپ کر ترکی پہنچا۔

​خسری نے باور کرایا کہ ایرانی حکومت اس کی منحرف ہونے پر تشویش کا شکار ہے اس لیے کہ اس کا انحراف فوج کے دیگر ہوابازوں اور افسران پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس نے انکشاف کیا کہ اس کے جیسے دیگر ہواباز بھی ہیں جو اسی نظام کے تحت کام کرنے اور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں مگر آمرانہ نظام کے خوف سے منحرف نہیں ہو رہے ہیں۔