.

جنرل قاسم سلیمانی کا دورہ روس، پوتن سے ملاقات نہیں ہوگی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی #پاسداران_انقلاب کی بیرون ملک سرگرم #القدس_فورس کے سربراہ جنرل #قاسم_سلیمانی خصوصی دورے پر #روس پہنچے ہیں جہاں وہ روس کی عسکری قیادت سے ملاقات کریں گے تاہم ان کے اس دورے میں صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’’رائیٹرز‘‘ نے تین مختلف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کے بیرون ملک آپریشنل کارروائیوں کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی گذشتہ روز ماسکو پہنچے تھے جہاں انہوں نے روس کی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کرنی ہیں۔

ایران کے ایک سینیر سیکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی روسی حکام کے ساتھ میزائل ڈیفنس سسٹم ’’ایس 300‘‘ کی ایران کو حوالگی اور دو طرفہ فوجی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

قبل ازیں ماسکو میں ایک مغربی سفارت کارنے بتایا تھا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ جنرل سلیمانی روسی صدر ولادی میر #پوتن اور وزیردفاع سیرگی چویگو سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے تاہم روسی ایوان صدر کی جانب سے جنرل سلیمانی اور صدر پوتن کی ملاقات کی تصدیق نہیں کی گئی۔

روسی ذرائع ابلاغ نے کریملن کے سرکاری ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنرل سلیمانی کے دورہ ماسکو کے دوران ان کی صدر پوتن کے ساتھ ملاقات طے نہیں ہے۔

خیال رہے کہ جنرل قاسم سلیمانی پچھلے سال جولائی میں بھی روس کے خصوصی دورے پر اس وقت ماسکو پہنچے تھے جب روسی حکومت شام میں صدر بشار الاسد کے دفاع کے لیے اپنی فوجیں بھجوانے کی تیاری کررہی تھی۔

جنرل سلیمانی ایران کی صف اول کی ان متنازع شخصیات میں شامل ہیں جن پر ماضی میں عالمی اداروں کی جانب سے سفری پابندیاں بھی عاید کی جاتی رہی ہیں۔ سنہ 2007ء میں امریکا نے سلیمانی کے بیرون ملک اثاثے منجمد کرتے ہوئے القدس فورس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر جنرل سلیمانی پر بھی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

اقوام متحدہ کے رکن کی حیثیت سے روس بھی بلیک لسٹ کردہ کسی شخصیت کو اپنے ہاں دورے کی اجازت دینے کا مجاز نہیں مگرروسی حکومت کی دوغلی پالیسی کے نتیجے میں بلیک لسٹ ایرانی عہدیدار کھلےعام ماسکو کے دورے کررہے ہیں۔