.

روس بشار الاسد کو جنگ بندی کا پابند بنائے: جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ #جان_کیری نے کہا ہے کہ #شام میں بحران کے حل اورامن بات چیت کامیاب بنانے کے لیے تمام فریقین کا جنگ بندی پر قائم رہنا ضروری ہے۔ خاص طورپر شام کی سرکاری فوج کی جانب سے آئے روز جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی روک تھام ناگزیر ہے اور #روس اس میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ روس کو شام میں #جنگ_بندی کو آگے بڑھانے اور صدر #بشار_الاسد کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے مدد کرنی چاہیے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے اپنے روسی ہم منصب #سیرگئی_لاوروف سے ٹیلیفون پر بات چیت میں کہا کہ ’’#امریکا کو توقع ہے کہ ماسکو حکومت شام میں صدر بشار الاسد کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے باز رکھنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ ادھر امریکا شامی اپوزیشن کو جنگ بندی پر قائم رہنے اور لڑائی سے گریز پر مجبور کرے گا تاکہ امن بات چیت کا عمل آگے بڑھایا جاسکے۔"

قبل ازیں روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ جان کیری اور لاوروف کے درمیان ہوئی ٹیلیفونک بات چیت میں شام کے بحران کے پرامن حل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہوئی بات چیت میں یوکرائن کا معاملہ بھی زیربحث آیا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیری نے کہا کہ وزیر خارجہ نے روسی ہم منصب سے ٹیلیفون پر بات چیت میں شام میں سرکاری فوج کے ہاتھوں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ روس کو چاہیے کہ وہ اسد رجیم کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے باز رکھے۔

خیال رہے کہ امریکی اور روسی وزراء خارجہ کے درمیان شام کے تنازع پر تازہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شمالی شام کے #حلب شہر میں محاذ جنگ ایک بار پھر سےگرم ہو رہا ہے۔ لڑائی شدت اختیار کرنے کے خوف سے ہزاروں افراد محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ اسی ہفتے اقوام متحدہ کی نگرانی میں جنیوا میں شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بالواسطہ بات چیت بھی شروع ہو رہی ہے۔

جمعرات کے روز حلب اور اس کے اطراف میں شامی فوج کی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔