.

امریکا : اسرائیل سے متعلق برنی سینڈرز کے موقف پر یہودیوں میں غصہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدارت کے لیے ممکنہ یہودی امیدوار #برنی_سینڈرز #امریکا کے بہت سے روایتی یہودی اداروں کے لیے حیرت کا ذریعہ بن گئے ہیں بالخصوص وہ ادارے جو #اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔

معاملہ صرف فلسطین- اسرائیل کے مسئلے سے متعلق سینڈرز کے موقف تک محدود نہیں بلکہ اس مشکل کی وجہ یہ بھی ہے کہ سینڈرز اعلانیہ طور پر اپنی یہودی نسل اور مذہب کے حوالے سے سرد مہری کا اظہار کرتے ہیں۔

سابق صدر بل کلنٹن کے دور میں وہائٹ ہاؤس کے سابق میڈیا اور پولیٹیکل ایڈوائزر اسٹیفن رابنویٹس کے مطابق " ان (سینڈرز) کا کہنا ہے کہ وہ پولینڈ سے ہجرت کرنے والے والدین کے یہاں پیدا ہوئے۔ وہ یہ ہرگز نہیں بتاتے کہ وہ یہودی مہاجرین کی اولاد ہیں۔"

اگرچہ امریکی صدارتی امیدوار خواہ ڈیموکریٹک ہوں یا ریپبلکن، سب ہی علی الاعلان اسرائیل کی پالیسی اور قیادت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں تاہم اس مرتبہ معاملہ کچھ مختلف ہے۔ برنی سینڈرز کو مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے مواقف کی وجہ سے ایک جانب تنقید کا سامنا ہے تو دوسری جانب تائید کا۔

سینڈرز نے اپنی جوانی کا ایک عرصہ اسرائیل میں زراعت پر مبنی ایک اجتماعی کمیونٹی "کیبوتس" میں گزارا۔ تاہم وہ واحد صدارتی امیدوار ہیں جو اسرائیلی حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر تنقید سے نہیں چوکتے۔ انہوں نے آخری صدارتی مباحثے میں #غزہ میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی قتل وغارت گری پر گفتگو کی۔ سینڈرز نے اپنی حریف ہیلری کلنٹن پر دھوکے اور فریب کا الزام بھی عائد کیا۔

اسی مباحثے میں سینڈرز نے کہا کہ امریکیوں پر لازم ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ احترام اور وقار کا معاملہ کریں۔ سینڈرز نے ہیلری کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے اسرائیل کی حامی لوبی سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینیوں کی ضروریات کا ذکر نہیں کیا۔

سینڈرز کی حامی ایک یہودی خاتون شیرون گولڈزوک کے مطابق امریکا کے کم سن یہودی ووٹرز کو سینڈرز جیسے امیدوار کا انتظار تھا جو اپنے ترقیاتی مواقف کو نافذ کرے نہ صرف داخلی پالیسی پر بلکہ خارجہ پالیسی پر بھی۔

دوسری جانب سینڈرز کو ان مواقف پر تنقید کا بھی سامنا ہے بالخصوص ان کی اس غلطی کے بعد جس میں انہوں نے دو سال قبل غزہ میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد دس ہزار بول دی۔

ان کی اتنخابی مہم کی جانب سے کہا گیا کہ سینڈرز سے غلطی ہوگئی ہے اور یہ تعداد ہلاکتوں کی نہیں بلکہ زخمی ہونے والوں کی ہے۔

ادھر سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئیٹر پر بھی مختلف تبصرے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ "سینڈرز کے تبصرے ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اسرائیل ہی مسئلہ ہے نہ کہ فلسطینی دہشت گردی"۔ ایک دوسرے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ "سینڈرز کی باتوں کے برعکس نتائج ہوں گے، اس لیے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات مسترد کرنے پر فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں"۔

​ایک امریکی صحافی رون کیمبیوس کا کہنا ہے کہ " سینڈرز اور امریکا میں اسرائیل کے روایتی حامیوں کے درمیان واضح فرق اسرائیل کو اعلانیہ طور پر تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ یہ کام اس سے پہلے اوباما بھی کرچکے ہیں مگر اس بار ایک یہودی امیدوار اسرائیل پر اعلانیہ نکتہ چینی کررہا ہے اور یہ ہی چیز ان کے اعصاب کا امتحان لے رہی ہے"۔

اسٹیفن رانبویٹس کے مطابق ایک اضافی عامل بھی ہے، وہ یہ کہ "سینڈرز یہودی کمیونٹی سے خطاب میں سست رہے۔ وہ اسرائیل اور مشرق وسطی کے متعلق بطور مسئلہ گفتگو کرنے میں پیچھے رہے۔ وہ اپنی یہودی بنیادوں کا ذکر کرنے میں پرجوش نہیں نظر آئے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جو یہودی کمیونٹی کے ساتھ نہیں چل سکتے"۔

یہ تمام تنازع نیویارک ریاست میں پارٹی انتخابات کے لیے ووٹنگ سے چند روز قبل منظرعام پر گردش میں ہے۔ ریاست میں ہونے والے سروے کے مطابق ہیلری کلنٹن کو ریاست کی یہودی آبادی میں سینڈرز پر 38 سے 60 فی صد کی برتری حاصل ہے۔ سروے کے مطابق ریاست کے باسیوں کی عام حمایت ہیلری کو حاصل ہے۔ وہ سینیٹ میں اسی ریاست کی نمائندگی کررہی تھیں۔