.

10 غذاؤں سے پرہیز.. "پیٹ کے اپھار" سے نجات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار "ڈیلی میل" میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دو سینئر غذائی ماہرین نے یہ ثابت کیا ہے کہ دس غذائیں ایسی ہیں جو صحت بخش ہونے کے باوجود انسانی معدے کو پھلا کر پیٹ کے بڑھنے یعنی "توند" کا سبب بنتی ہیں جو دیکھنے میں انتہائی نامناسب نظر آتا ہے۔

کھانے کی ان اشیاء کی فہرست کے علاوہ دونوں ماہرین نے ہدایت کی ہے کہ پورے دن میں وقفے وقفے کے ساتھ چھوٹے اور ہلکے کھانے اچھی طرح چبا کر لینے چاہیئں تاکہ آنتوں کو پھولنے کا کوئی موقع نہ ملے۔

ذیل میں کھانے کی ان 10 اشیاء کی فہرست ہے جن سے پرہیز کرنا چاہیے تاکہ پیٹ سیدھا رہے اور کسی بھی ناپسندیدہ نمایاں صورت سے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکے :

1- پھول گوبھی، بند گوبھی اور شاخ گوبھی

ڈاکٹر مییلن گرینول کے مطابق پھول گوبھی، بند گوبھی اور شاخ گوبھی جیسی سبزیاں بعض لوگوں کے ہاضمے کے نظام کے لیے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ ایسے افراد ان غذاؤں کو اچھی طرح سے ہضم نہیں کرسکتے اس لیے پیٹ پھول جاتا ہے اس کی وجہ ان افراد میں خامروں enzymes)) کی کمی ہوسکتی ہے۔

2- دالیں، پھلیاں اور جڑ والی سبزیاں

اگرچہ یہ کم چکنائی رکھنے والی صحت بخش غذائیں ہیں جو پھرتیلے جسم کے حصول کے لیے مثالی ہیں، تاہم یہ ان افراد کے لیے ٹھیک نہیں جو مذکورہ اشیاء کو کھانے کے بعد معدہ پھول جانے کی صورت حال سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ ان میں لوبیا، دالیں اور جڑ والی سبزیاں وغیرہ شامل ہیں۔ اس بات کی تصدیق غذائی ماہر کیسینڈرا بارنز نے کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ دالوں کو پکانے سے پہلے ٹھنڈے پانی میں پوری رات بھگو دیا جائے تاکہ ان سے phytic acid بڑی حد تک کم ہوجائے جو معدے کے پھولنے کا سبب ہے۔

3- گٹھلی والے پھل

ڈاکٹر میلن گرینول کے مطابق گٹھلی والے پھلوں مثلا آلوچہ وغیرہ اور خشک میوہ جات سے دور رہنا چاہیے۔ اگرچہ یہ اپنے اندر متعدد وٹامن، معدنیات اور اینٹی آکسی ڈنٹ رکھتے ہیں تاہم ان کے کھانے پر ہاضمے کا عمل تیز ہوجاتا ہے، اس کی وجہ ان میں موجود قدرتی شوگر الکحلز ہیں۔ ان کو ہضم کرنے کے لیے آنتوں میں موجود جرثومے پر انحصار کیا جاتا ہے۔ اگر یہ مناسب طور ہضم نہ ہوسکیں تو یہ اس کا نتیجہ اپھار اور گیس کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

4- مصالحے

اگرچہ مصالحے متعدد خصوصیات اور فوائد رکھتے ہیں تاہم بعض مسالے معدے کی تیزابیت میں اضافہ کرتے ہیں اور پھر معدے کے اپھار کا سبب بنتے ہیں۔

5- چیونگم چبانا

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ منہ میں چیونگم چبانے سے انہیں کھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم درحقیقت یہ عمل معدے میں ہوا کے داخلے کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے جس کے سبب اپھار ہوتا ہے۔ یہ ہاضمے کے خامروں کو بھی تحریک دیتا ہے جس کے نتیجے میں بھوک کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے ڈاکٹر میلن گرینول یہ ہدایت کرتی ہیں کہ چیونگم چبانے کے بدلے ریشے دار ہلکی پھلکی غذا لے لینا چاہیے۔

6- نمک

کیسینڈرا بارنز ہدایت کرتی ہیں کہ کھانے میں نمک کی مناسب مقدار استعمال کی جانی چاہیے۔ اس لیے کہ نمک کی زیادتی نہ صرف دل کے لیے نقصان دہ اور بلند فشار خون کا سبب بنتی ہے بلکہ جسم میں پانی کی مقدار کو بڑھادیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پیٹ میں اپھار ہوتا ہے اور گیسیں پھیلتی ہیں۔

7- ڈائیٹ کولا

اگرچہ ڈائٹ کولا حراروں کے لحاظ سے ہلکی ہوتی ہے تاہم یہ کاربن کے بلبلوں سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کے اندر گیسیں بنتی ہیں اور یہ پیٹ پھولنے کا سبب ہوتا ہے۔ اس واسطے کیسینڈرا بارنز یہ ہدایت کرتی ہیں کہ کولا مشروبات کے بدلے پانی میں لیموں ملا کر یا پودینے والی چائے (بغیر دودھ کے) کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ معدے کی تیزابیت اور اپھار کو کم کیا جاسکے۔

8- شکر کی متبادل مصنوعی مٹھاس

اکثر لوگ شکر کی متبادل مٹھاس کے کثیر استعمال کی وجہ سے معدے کے اپھار میں مبتلا ہوتے ہیں۔ لہذا اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔

9- دودھ سے بنی اشیاء

بعض لوگوں میں لیکٹوز کا خامرہ کم ہوتا ہے جو لیکٹوز کو ہضم کرنے کے لیے لازم ہے۔ اس کے نتیجے میں جب یہ لوگ دودھ اور اس سے تیار کردہ اشیاء کھاتے ہیں تو انہیں نظام ہضم میں تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ یہ اشیاء مناسب طور ہضم نہیں ہوپاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں انہیں پیٹ کے اپھار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

10– خالص نشاستہ دار اشیاء

خالص نشاستوں سے بھرپور اشیاء مثلا بسکٹ اور پاستا وغیرہ کے نتیجے میں خون میں شکر کی سطح بڑھ جاتی ہے بہ نسبت ان اشیاء کے جن میں تصفیہ شدہ اجزاء نہیں ہوتے۔ اس کے نتیجے میں Irritable bowel syndrome میں مبتلا افراد کے پیٹ میں شدید قسم کا اپھار پیدا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ اشیاء بعض مرتبہ گندم پر بھی مشتمل ہوتی ہے جو بعض لوگوں کے نظام ہضم کے لیے مسئلہ کی وجہ بنتی ہے۔