.

روسی جیٹ امریکی طیارے کی پرواز میں خلل انداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کا ایک لڑاکا جیٹ ایس یو 27 بحر بالٹک پر بین الاقوامی فضائی حدود میں امریکی فضائیہ کے ایک نگران جاسوس طیارے کی پرواز میں بالکل غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں خلل انداز ہوا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی ترجمان لورا سیل نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کے روز پیش آیا تھا۔امریکی طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود میں اڑ رہا تھا اور اس نے روس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔

ترجمان نے کہا ہے کہ ''اس غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں طیارے کو روکے جانے سے عملے کے تمام ارکان کی جانوں کے لیے خطرہ ہوسکتا تھا اوراس ایک پائیلٹ کی غیر دارانہ حرکت سے دونوں ملکوں کے درمیان غیر ضروری طور پر کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے''۔

امریکی فوج کی یورپی کمان کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے کے دوران روسی طیاروں کی جانب سے امریکی لڑاکا جہازوں کو ہراساں کرنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ایک روسی لڑاکا طیارے نے یو ایس ایس ڈونلڈ کک کے بالکل نزدیک آکر نچلی پرواز کی تھی۔روس نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کی یہ حرکات اشتعال انگیز تھیں لیکن ان سے دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ میں اضافے کی عکاسی ہوتی ہے۔

پینٹاگان کے بیان کے مطابق روسی طیارے نے جس امریکی طیارے کو روکنے کی کوشش کی تھی،وہ آر سی 35 تھا اور معمول کے روٹ پر پرواز کررہا تھا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''گذشتہ سال کے دوران ایسے متعدد واقعات پیش آئے تھے جب روس کے فوجی طیارے دوسروں کی فضائی اور سمندری حدود میں طیاروں اور لڑاکا جہازوں کے اتنا قریب آگئے تھے جس سے تحفظ کے حوالے سے گہری تشویش پیدا ہوئی تھی''۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعرات کو سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بحری جنگی جہاز کے بالکل نزدیک روسی طیارے کی پرواز کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔انھوں نے کہا کہ ''یہ ایک غیر ذمے دارانہ ،خطرناک اور اشتعال انگیز حرکت تھی۔قواعد کے تحت تو اس طیارے کو مار گرایا جانا چاہیے تھا''۔

روس نے گذشتہ سوموار کو بحر بالٹک میں جنگی مشقیں شروع کی تھیں جبکہ امریکی جنگی بحری جہاز روس کے کیلنن گراڈ میں واقع بحری اڈے سے قریباً ستر ناٹیکل میل دور موجود تھا۔امریکی فوج کی یورپی کمان نے اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔اس میں روسی طیارہ جنگی بحری جہاز کے بالکل نزدیک سے گزر رہا ہے اور ایک سیلر کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ طیارہ جنگی بحری جہاز کی بلند سے بھی نیچے پرواز کررہا ہے اور وہ صرف تیس فٹ کی دوری پر رہ گیا تھا۔