.

قندوز میں افغان فورسز اور طالبان کے درمیان خونریز جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کی سرکاری فوج نے طالبان مزاحمت کاروں کے شمالی شہر قندوز پر قبضے کے لیے پے درپے حملوں کو پسپا کردیا ہے۔ متضاد اطلاعات کے مطابق لڑائی میں چالیس سے پچاس جنگجو مارے گئے ہیں۔

طالبان کے سیکڑوں جنگجوؤں نے موسم بہار کے سالانہ حملوں کے آغاز کے چند روز بعد قندوز پر یہ نیا حملہ کیا ہے۔انھوں نے گذشتہ سال بھی پے درپے حملوں کے بعد اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا لیکن وہ اس کو دو ہفتے سے زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکے تھے۔

قندوز کے پولیس سربراہ قاسم جنگل باغ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان جنگجوؤں نے شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقے چار درہ پر کنٹرول کے لیے حملہ کیا تھا اور انھوں نے متعدد چیک پوائنٹس کو نشانہ بنایا ہے۔ گذشتہ سال بھی انھوں نے چاردرہ ہی سے قندوز پر قبضے کے لیے چڑھائی کی تھی۔

پولیس سربراہ کے بہ قول طالبان جنگجو قندوز شہر اور چار درہ کے درمیان واقع رابطہ سڑک کو منقطع کرنا چاہتے تھے تاکہ ہم وہاں کمک نہ بھیج سکیں۔ طالبان نے قندوز کے مشرقی علاقے چرخ آب پر بھی ایک بڑا حملہ کیا تھا اور اس کو بھی پسپا کردیا گیا ہے۔

افغان حکام نے قندوز میں لڑائی میں ہلاکتوں کی تعداد مختلف بتائی ہے۔قندوز پولیس کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران انچاس طالبان جنگجو ہلاک اور اکسٹھ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ وزارت دفاع نے طالبان کی ہلاکتوں کی تعداد اڑتیس بتائی ہے اور کہا ہے کہ تیرہ جنگجو زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ لڑائی میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکار ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔ قندوز کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر سعد مختار نے بتایا ہے کہ شہر کے اسپتالوں میں گذشتہ تین روز کے دوران چھے لاشیں اور ایک سو سات زخمیوں کو لایا گیا ہے۔