.

نیوکلیئر معاہدے پر ایرانی رویے کا جائزہ لے رہے ہیں: امریکا

داعش کے خلاف تعاون حاصل کرنے ایش کارٹر ابوظبی پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ ان کا ملک نیوکلیئر معاہدے پر ایرانی عمل درآمد کی رفتار کا جائزہ لے رہا ہے۔

واشنگٹن امید رکھتا ہے کہ تہران خلیج میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو پریشان کرنے والی معاندانہ کارروائیاں بند کر دے گا۔ انہوں نے امریکی فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موجودگی ایرانی اثر ونفوذ روکنے کے لئے وضع کردہ امریکی نظام کا حصہ ہے۔

ایش کارٹر ہفتے کے روز خلیج کے دورے کے آغاز پر ابوظہبی پہنچے ہیں۔ اس دورے کا اختتام ان کی ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد ہو گا۔ اس دورے کا ایک مقصد یہ ہے کہ خلیج کے ممالک عراق کی مدد کریں ایسے میں جب وہ داعش کے خلاف صف آرا ہے۔

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کے سرکش گروپ کو نیست ونابود کرنا ضروری ہے کیونکہ ''یہ معاملہ یہاں سے ہی شروع ہوا''۔

اُنھوں نے داعش کے شدت پسند ٹولے کو سرطان سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ''ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک باصلاحیت مقامی فورس موجود ہو جو دولت اسلامیہ کی شکست کے بعد اُس کی جگہ لے، تاکہ شدت پسندوں کو زیر رکھا جا سکے۔''

کارٹر نے ہفتے کو الدفرہ فضائی اڈے کا دورہ کیا جہاں متحدہ عرب امارات میں تعینات امریکی سفیر باربرا لیف؛ دفاعی اتاشی برگیڈیئر جنرل جو رینک اور ونگ وائس کمانڈر کرنل جانی بارنیس نے اُنھیں بریفنگ دی۔

امریکی قیادت میں کام کرنے والا اتحاد داعش کے شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائی کے لیے اس فضائی اڈے کو استعمال کرتا ہے، ساتھ ہی یہاں سے انٹیلی جنس، جاسوسی اور نگرانی کے مشن کیے جاتے ہیں۔

دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران، ایش کارٹر سعودی عرب کے دارالحکومت، ریاض میں خلیج تعاون کونسل اور دفاعی قائدین سے گفتگو کریں گے۔

اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران، کارٹر نے بتایا کہ امریکی صدر براک اوباما کی ریاض میں آمد متوقع ہے، جہاں وہ خلیج کے پارٹنرز کے ساتھ گفتگو میں عراقی علاقوں کی تعمیر نو کے لیے عطیات کے لیے کہیں گے، جو علاقے دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں تباہ ہوئے ہیں۔ کارٹر کے بقول، ''یہ عالمی کاوش ہے جس میں کئی ملک عطیات دے سکتے ہیں''۔

وزیر دفاع داعش کے خلاف جاری جنگ کو مزید تیز کرنے کے سلسلے میں بھی خلیج تعاون تنظیم کے رہنمائوں کے ساتھ گفتگو کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اُن کے الفاظ میں، ''ہم فوجی کارروائی کو ممکنہ حد تک تیز کرنا چاہتے ہیں۔''