.

گولان ہمیشہ کے لیے اسرائیل کا حصہ ہے : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز اس عہد کا اظہار کیا ہے کہ مقبوضہ گولان کا شامی علاقہ "ہمیشہ کے لیے" اسرائیل کا حصہ رہے گا۔

نیتن یاہو کے مطابق " اب وقت آچکا ہے کہ عالمی برادری حقیقت کو تسلیم کرلے، 50 برس کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ اس بات کو تسلیم کرلیا جائے کہ گولان ہمیشہ اسرائیلی اقتدار کے تحت رہے گا"۔

انہوں نے باور کرایا کہ " گولان کے پہاڑی علاقے سے اسرائیل کا انخلاء کبھی نہیں ہوگا"۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو کو اندیشہ ہے کہ اگر امن مذاکرات کے ذریعے شام کے مستقبل سے متعلق کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پھر عالمی برادری مقبوضہ گولان سے انخلاء کے لیے عبرانی ریاست پر دباؤ ڈالے گی۔

قبل ازیں اتوار کے روز اسرائیلی کابینہ کا ہفتہ وار اجلاس پہلی مرتبہ مقبوضہ گولان کے علاقے میں ہوا۔ اپنی نوعیت کے اس پہلے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ مقبوضہ گولان سے انخلاء کسی طور عمل میں آنے والا نہیں۔

گزشتہ چند روز کے دوران یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ شام میں جاری تنازع کے کسی بھی حل میں گولان کے علاقے کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جس پر اسرائیل نے 1967ء کے جنگ میں قبضہ کرلیا تھا۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران شامی حکومت اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان جھڑپوں میں گولان کے علاقے میں میزائل بھی گرے تھے جس کا اسرائیل کی جانب سے بدستور جواب دیا جاتا رہا۔