.

سعودی خواتین میں سگریٹ نوشی کی وجوہات!

محکمہ صحت کی مساعی سے دو سال میں 1973 خواتین نے نشہ ترک کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر کی طرح #سعودی_عرب میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں مرد حضرات سب سے آگے ہیں مگر تشویشناک کی بات یہ ہے کہ مملکت میں خواتین کا سگریٹ نوشی کی طرف رحجان بھی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ دوسری جانب سعودی محکمہ صحت اور دیگر ادارے نشے کی لعنت سے چھٹکارے کے لیے بھی سرگرم عمل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سعودی عرب میں صنف نازک کی سگریٹ نوشی کی اہم وجوہات کا تعین کیا ہے۔ وزارت صحت کے زیراہتمام انسداد منشیات اور سگریٹ نوشی کی روک تھام کے پروگرام کی خاتون ڈائریکٹر آلاء الربیع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی شبانہ روز مساعی کے نتیجے میں گذشتہ دو برسوں میں 1973ء خواتین نے سگریٹ نوشی کی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا۔ تمباکو نوشی سے تائب ہونے والی خواتین میں 28 فی صد مستقل ڈسپنسریوں سے علاج کرایا جب کہ 73 فی صد خواتین نے موبائل طبی ٹیموں کی کوششوں سے اس لعنت سے چھٹارا حاصل کیا ہے۔

الآء الربیع سے جب ملک میں خواتین کے ہاں سگریٹ نوشی کے بڑھتے اسباب سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی تین وجوہات بیان کیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

شخصی آزادی

خواتین میں سگریٹ موشی کی پہلی وجہ خواتین کی شخصی آزادی کا غلط استعمال ہے۔ زیادہ تر عورتیں شخصی آزادی یا عمومی تفریح کے لیے سگریٹ نوشی کرتی ہیں تاہم اس کے باوجود ان کا ضمیر انہیں ایسا کرنے سے کسی نہ کسی شکل میں ٹوکتا بھی رہتا ہے اور وہ اپنے اس کیے پر شرمسار بھی رہتی ہیں۔ مگر ان کی اسموکنگ کی عادت ان کی شرمساری پرغالب رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پبلک مقامات پر بھی سگریٹ نوشی سے گریز نہیں کرتیں۔ یہ حیرت کی بات نہیں۔

امید کی کرن

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتےہوئے آلاء الربیع کا کا کہنا تھا کہ وزارت صحت کے زیراہتمام خواتین کی سگریٹ نوشی اور نشے کی دیگر بری عادتوں سے نجات کے حوالے سے متعدد پروگرامات جاری ہیں۔ یہ تمام پروگرامات خواتین کے لیے کی امید کی کرن ہیں۔ ان پروگرمات کے توسط سے ملک کے طول وعرض میں خواتین کے ہاں سگریٹ نوشی کے بڑھتے رحجان پر قابو پانے کی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ طبی ماہرین کے ساتھ ساتھ بہترین نوعیت کے طریقہ ہائے علاج کے ذریعے ان کی اصلاح کی جا رہی ہے۔ خواتین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اسموکنگ کی لعنت ان کی اور ان کے آس پاس لوگوں سمیت پورے معاشرے کی صحت کی تباہی کا موجب بن رہی ہے۔۔

سگریٹ نوشی میں اضافہ

سعودی عرب میں انسداد سگریٹ نوشی کے لیے سرگرم آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ عبداللہ علی آل دربہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب میں سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کی تعداد 5.7 فی صد ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ خواتین میں اسموکنگ کے رحجان میں تیزی سے اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے انسداد کے پروگرام بھی اپنا اثر دکھا رہے ہیں۔ اب تک 61 فی صد خواتین نے سگریٹ نوشی کی لعنت ترک کرنے کے لیے طبی مراکز سے رجوع کیا ہے اورسگریٹ نوشی ترک کرنے والی خواتین میں ایک کی عمر 70 سال ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر آل دربہ کاکہنا تھا کہ خواتین کے ہاں سگریٹ نوشی کا معاملہ نہایت حساس اور پیچیدہ ہے اور ملک بھر میں 13 سے 70 سال تک کی خواتین نشے سگریٹ نوشی میں مبتلا ہیں۔

خواتین کے حلقوں میں سگریٹ نوشی کے بڑھتے اسباب پربات کرتے ہوئے انہوں نے اس کی درج ذیل تین وجوہ بیان کیں۔

اول: فیشن اور شخصی عزت وقار

دوم: خوبصورتی اوراپنی شخصیت کا اظہار

سوم: دولت اور فن میں مشاہیر خواتین کی تقلید

شیشے کا بڑھتا ہوا استعمال

آل دربہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین کے ہاں سگریٹ نوشی سے زیادہ شیشے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ شیشہ خواتین کے ہاں زیادہ پسندیدہ سماجی عادت بن رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیشے کا استعمال نوجوان خواتین اور مردوں میں یکساں ہے اور عموما یہ سب کچھ انہیں پبلک مقامات پر بھی مل جاتا ہے۔