.

یمنی باغیوں نے مذاکرات کے لیے شرائط عاید کر دیں

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری، مذاکرات عملا معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے حوثی باغیوں اور سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح کے نمائندہ مذاکرات کاروں نے کویت کی مساعی سے ہونے والی بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے شرائط عاید کر دی ہیں۔ دوسری جانب یمن میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں اور بات چیت کا عمل عملا معطل ہو کر رہ گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کو اپنے ذریعے سے اطلاع ملی ہے کہ یمنی باغیوں نے پرسوں جمعہ کے روز کویت میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے شرائط عاید کی ہیں۔ رواں ہفتے ہونے والی بات چیت باغیوں کے اجلاس میں عدم شرکت کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگئی تھی تاہم اب پتا چلا ہے کہ باغی مشروط بات چیت پرآمادہ ہیں۔

کویتی اخبار’’الجریدہ‘‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے حوثی باغیوں اور علی صالح کے مذاکرات کاروں کو صنعاء اور مسقط سے کویت لانے کے لیے ایک خصوصی طیارہ مختص کیا ہے۔ ذرایع کے مطابق سلطنت آف اومان کی جانب سے بھی حوثیوں اور علی صالح سے کہا گیا ہے کہ وہ اعلان کردہ مذاکرات میں شرکت کو یقینی بنائیں اور شرائط کے ذریعے امن عمل کومتاثر نہ کریں۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے مندوب نے بھی حوثی باغیوں اور علی صالح کے وفاداروں پر زور دیا تھا کہ وہ مذاکرات کے اس بہترین موقع کو ضائع ہونے سے بچائیں کیونکہ بات چیت کی ناکامی سے یمن میں مزید جانی نقصان کی راہ ہموار ہو گی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں کویت نے اپنی میزبانی میں یمن بحران کے حل کے لیے بات چیت شروع کی تھی تاہم باغیوں کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد بات چیت کا عمل معطل کردیا تھا تاہم اقوام متحدہ کے امن مندوب حوثیوں، علی صالح کے مذاکرات کاروں، کویت اور یمنی حکومت سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں اور انہوں نے تمام فریقین کو بات چیت کا عمل آگے بڑھانے پر قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

دوسری جانب حکومتی وفد نے سلامتی کونسل کی قراردادوں سے باہر کسی قسم کی شرائط پر بات چیت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ یمنی حکومت کا کہنا ہے کہ فریقین کو غیرمشروط بات چیت کرنی چاہیے۔ مذاکرات سے قبل شرائط امن مساعی کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

ادھر دوسری جانب یمن میں محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق شورش زدہ شہر تعز میں بڑے پیمانے پر دوبارہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مغربی تعز اور مشرقی کالونیوں، جبل صبر اور دیگر مقامات پر متحارب گروپوں نے مشین گنوں اور بھاری توپخانے سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی ہے۔

گذشتہ روز صنعاء کے شمال مشرقی علاقے نھم میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تازہ حملے کیے گئے۔ ذرائع کے مطابق علی صالح ملیشیا کی جانب سے الجوف گورنری میں تازہ فوجی کمک روانہ کی گئی ہے۔