.

ایران دہشت گردی کے متاثرین کو 2 ارب ڈالرز ادا کرے: امریکی عدالت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی عدالت عظمیٰ نے ایران کے خلاف دہشت گردی میں ہلاک شدہ افراد کے خاندانوں کو قریباً دو ارب ڈالرز ہرجانے کے طور پر ادا کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔استغاثہ کے مطابق یہ افراد ایران کی اسپانسر دہشت گردی میں ہلاک ہوئے تھے اور ایک وفاقی عدالت نے ایران کو دہشت گردی کے متاثرین کو دو ارب ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے بدھ کو 241 میرینز کے خاندانوں کے حق میں چھے،دو کی اکثریت سے فیصلہ سنایا ہے۔یہ امریکی میرینز1983ء میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دہشت گردی کے حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کے لواحقین اور دوسرے حملوں کے متاثرین نے ایران کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ان کے وکلاء یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان متاثرین کو ایران کے مرکزی بنک کے اثاثوں سے یہ رقم ادا کی جائے۔

ایران کے مرکزی بنک نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ میں یہ شکایت کی تھی کہ کانگریس امریکا کی وفاقی عدالتوں کے کام میں مداخلت کررہی ہے۔کانگریس نے 2012ء میں ایک قانون کی منظوری دی تھی اوراس میں یہ ہدایت کی گئی تھی کہ امریکا میں اس بنک کے اثاثوں کو متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کے لیے استعمال کیا جائے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس اور جسٹس سونیا سوٹو مئیر نے فیصلے میں کانگریس کے اس قانون کے حوالے سے کہا ہے کہ ''سیاسی شاخوں کی اتھارٹی کافی ہے،اس لیے انھیں ہماری اتھارٹی ضبط کرنے کی ضرورت نہیں ہے''۔

بیروت میں میرینز کی بیرکوں میں بم دھماکے کے متاثرین سمیت تیرہ سو سے زیادہ افراد نے یہ کیس دائر کیا تھا۔ان میں 1996 میں سعودی عرب میں الخوبر ٹاورز میں دہشت گردی کے حملے میں ہلاک شدہ انیس اہلکاروں اور دوسرے حملوں کے مہلوکین کے خاندان بھی شامل تھے۔یہ حملے مبینہ طور پر ایران سے وابستہ گروپوں نے کیے تھے۔

اس مقدمے کے سرکردہ مستغیث ڈیبورہ پیٹرسن تھے۔ان کے بھائی لانس کارپورل جیمز سی نیپل بیروت میں بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے گذشتہ بیس سال کے دوران دہشت گردی کے متاثرین کو ہرجانہ ادا کرنے سے متعلق قانون کو متعدد مرتبہ تبدیل کیا ہے تاکہ متاثرین کو ریاست کی اسپانسر دہشت گردی کے لیے قانونی چارہ جوئی میں سہولت رہے۔

امریکا کی وفاقی عدالتیں اب تک دہشت گردی متاثرین کے حق میں متعدد فیصلے سنا چکی ہیں لیکن ایران ان فیصلوں پر عمل درآمد سے انکار کرتا چلا آرہا ہے جبکہ سرکردہ وکیل امریکا میں ایرانی اثاثوں کی تلاش میں ہیں تاکہ ان کا سراغ ملنے کی صورت میں انھیں متاثرین کو جاری کرایا جاسکے۔

امریکی کانگریس میں لبرل ڈیمو کریٹس اور قدامت پسند ری پبلکنز کے علاوہ اوباما انتظامیہ نے مذکورہ کیس میں متاثرہ خاندانوں کی حمایت کی تھی۔یہ کیس پیٹرسن بنام بنک مرکزی تھا۔