.

"مصافحہ" شامی خاندان کی شہریت میں التوا کا سبب!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوئس حکام نے ان دو شامی طالب علموں کے گھرانے کو شہریت دینے کی کارروائی معلق کردی ہے جنہوں نے اپنی استانی سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا تھا۔ یہ بات منگل کے روز سوئٹزرلینڈ کے شمالی کینٹن بازل کی انتظامیہ نے بتائی۔

مذکورہ کینٹن کی انتظامیہ کے ترجمان نے ای میل کے ذریعے بتایا کہ رواں سال جنوری میں شروع ہونے والے عمل کو "گزشتہ ہفتے" روک دیا گیا ہے۔

یہ فیصلہ سوئٹزرلینڈ میں دو ہفتے قبل اٹھنے والے تنازع کے بعد کیا گیا جب ایک شامی امام کے 14 اور 15 سالہ بیٹوں نے اپنی خاتون استاد سے ہاتھ ملانے سے انکار کردیا۔ ہاتھ ملانے کا یہ طریقہ سوئس اسکولوں میں معروف اور مقرر ہے۔

دونوں لڑکوں نے اپنے عمل کا جواز پیش کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ "اسلام مرد کو اس خاتون کو چھونے سے منع کرتا ہے جو اس کے اہل خانہ میں سے نہ ہو"۔ ان میں چھوٹے بھائی نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اسے یہ بات انٹرنیٹ پر دیکھے گئے ایک خطبے سے معلوم ہوئی۔

خاتون استاد سے ہاتھ ملانے سے انکار کے مقابل اسکول کی انتظامیہ نے دونوں کو اس عمل سے مستثنیٰ قرار دیا جس پر سوئٹزرلینڈ میں شدید احتجاج شروع ہوگیا۔

سوئٹزلینڈ کی وزیر داخلہ سیمونیٹا سوماروگا کے مطابق "ہاتھ ملانا ہماری ثقافت کا حصہ ہے" اور عقیدے کی آزادی کے نام پر دونوں طالب علموں کا انکار کرنا "ناقابل قبول" ہے۔

دوسری جانب سوئٹزرلینڈ میں اسلامی تنظیموں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان مصافحہ "مذہبی نقطہ نگاہ سے قابل قبول امر ہے"۔

بازل کینٹن کے حکام نے اس سلسلے میں قانونی ماہرین کی خدمات طلب کی ہیں جو اپریل کے اواخر تک یا مئی کے اوائل میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔

دونوں لڑکوں کے والد نے جو ایک مسجد کے امام ہیں 2001ء میں شام سے سوئٹزلینڈ پہنچ کر سیاسی پناہ کی دخواست دی تھی۔

بازل کینٹن میں شہریت دینے کے ذمے دار امیگریشن کے دفتر نے مذکورہ خاندان کو ان شرائط کی وضاحت کے لیے طلب کرلیا ہے جن کے تحت لڑکوں کے والد کو پناہ کا حق دیا گیا تھا۔

سوئس اخبارات کے مطابق امام کی بیٹیاں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے پہلے ہی شام لوٹ چکی ہیں۔