.

یورپی ساحل: موسم گرما میں داعش کا اگلا ہدف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

داعش تنظیم کی جانب سے وقتا فوقتا حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اطالوی انٹیلجنس کے مطابق داعش آئندہ موسم گرما کی تعطیلات کے دوران یورپ کے ساحلوں پر سیاحوں کو "دہشت گرد" حملوں کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

جرمن میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا ہے کہ داعش کھانے پینے کی چیزیں فروخت کرنے والوں کے بھیس میں شدت پسندوں کو بھیجنے کی منصوبے تیار کررہی ہے۔ اس کا مقصد اسپین، فرانس اور اٹلی کے سیاحتی مقامات میں ساحلوں پر دھماکا خیز مواد کی بیلٹوں کے ساتھ خودکش حملوں اور زمین میں نصب بم دھماکوں کی کاررائیوں پر عمل درادمد ہے۔

افریقہ میں قابل اعتماد ذرائع سے اطالوی انٹیلجنس کو ملنے والی رپورٹ میں جس کی معلومات روزنامہ "ڈیلی میل" نے بھی شائع کی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ "خون کے پیاسے" یہ درندے مذکورہ تفریحی مقامات پر پھیل جائیں گے اور پھر کھانے پینے کی اشیاء پیش کرنے والوں کے روپ میں سیاحوں کو خدمات فراہم کریں گے۔

جرمنی کے ایک اخبار نے بتایا ہے کہ داعش کے منصوبوں میں ان ساحلوں پر جو عموما موسم گرما میں کھچا کھچ بھرے رہتے ہیں، خودکش حملوں، غسل آفتاب کے لیے آرام کرسیوں کے نیچے مدفون دھماکا خیز مواد کے علاوہ خودکار ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہے۔

نشانہ بنائے جانے والے ساحلوں کی فہرست میں جنوبی فرانس کے تفریحی مقامات، اٹلی کے مشرقی اور مغربی دو ساحل اور اسپین کا تفریحی مقام "كوسٹا ڈیل سول" شامل ہیں۔

جرمن اخبار نے ایک اعلیٰ اہل کار کے حوالے سے یہ بھی بتایا ہے کہ "جس چیز کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے وہ دہشت گردی کے حوالے سے ایک نیا رخ ہے۔ ساحلوں کی حفاظت انتہائی دشوار کام ہے۔ گزشتہ سال تیونس کے ایک ساحل پر مسلح شخص نے 30 برطانوی باشندوں سمیت 38 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا"۔

واضح رہے کہ جرمنی نے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے تاحال اپنے شہریوں کو سفر سے متعلق کوئی انتباہ جاری نہیں کیا ہے۔