.

اپوزیشن کی جنیوا سے روانگی.. شامی مذاکرات پارہ پارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام کے لیے #اقوام_متحدہ کے خصوصی ایلچی نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ محصور شامیوں کے لیے انسانی بنیادوں پر امدادی سامان پہہنچانے کے سلسلے میں "تھوڑی" پیش رفت ہوئی ہے اور شامی حکومت ابھی تک بعض علاقوں میں طبی سامان داخل ہونے سے روک رہی ہے جو کہ "ناقابل قبول" امر ہے۔

اسٹیفن #ڈی_میستورا نے ہیومن ورک فورس کے ہفتہ وار اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ آئندہ دنوں میں ایک سینئر اہل کار کا تقرر کریں گے تاکہ لاکھوں زیرحراست افراد کا مسئلہ سنبھالا جاسکے۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن کا وفد #جنیوا سے واپس روانہ ہوگیا ہے۔ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی کے سینئر مذاکرات کار محمد علوش نے جنیوا سے روانگی سے قبل بتایا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز سے پہلے "قتل و غارت گری" کو روکے۔ علوش نے جو اپوزیشن کی جماعت جیش الاسلام کی نمائندگی کررہے ہیں جمعرات کے روز کہا کہ جب تک حکومت "قتل و غارت گری" کو نہ روک دے اور ہزاروں قیدیوں کو رہا نہ کردے اس وقت تک جنیوا میں امن بات چیت دوبارہ شروع نہیں ہوسکتی۔

علوش نے شامی حکومت کے مذاکرات کار بشار الجعفری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ قومی وحدت کی ایک حقیقی حکومت چاہتے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ پہلے جیلوں سے دس ہزار خواتین اور درجنوں ہزار مرد قیدیوں کو رہا کریں۔