.

شامی جنگ کے لیے بھرتی افغان بچوں کی ایران میں تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں بدھ کے روز افغان ملیشیا "فاطميون" کے 20 جنگجوؤں کی آخری رسومات ادا کی گئیں جو شام میں لڑائیوں کے دوران مارے گئے تھے۔ ہلاک شدگان میں 4 کم عمر بچے بھی ہیں جن کی عمریں 16 اور 17 برس کے درمیان ہیں۔ یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ پاسداران انقلاب جنگ کی بھینٹ چڑھانے کے لیے بھرتی کیے جانے والوں میں بچوں تک کو نہیں چھوڑتی۔

فارسی زبان کی ویب سائٹ "جنگ کی رپورٹس" نے ایرانی ویب سائٹوں کے حوالے سے چاروں کم سن لڑکوں کی آخری رسومات کی تصاویر جاری کی ہیں۔ 16 سالہ محمد حسين رضائی کو بدھ کے روز پاکدشت شہر میں دفن کیا گیا، 16 سالہ نور محمد داؤدی کی تدفین دليجان شہر میں عمل میں آئی جب کہ ربان مرادی اور مصطفى حصاری دونوں کی عمر 17 برس تھی۔

یاد رہے کہ پاسداران انقلاب نے "فاطميون" بریگیڈ میں جنجگوؤں کی تعداد کو بڑھا دیا تھا تاکہ وہ لڑائی جاری رکھنے کے لیے تیار دستہ بن جائے اور شامی حکومت کی فورسز اور مئی 2015 سے شام میں ایران کے زیرانتظام تمام ملیشیاؤں کا لڑائی میں ساتھ دے سکے۔

افغانی بریگیڈ کے کمانڈر علی رضا توسلی جو شام میں قاسم سلیمانی کا آدمی سمجھا جاتا تھا، فروری 2015 کے اواخر میں درعا کی لڑائیوں کے دوران مارا گیا۔

"فاطميون" ملیشیاؤں کا نام 2012ء کے اوخر میں منظرعام پر آیا تھا۔ ان میں افغانستان میں ہزارہ قومیت کے شیعہ عناصر شامل ہیں جن کو پاسداران انقلاب کے ونگ فیلق القدس کی جانب سے تربیت اوراسلحہ فراہم کیا گیا۔

ایران اپنی سرزمین پر موجود افغان پناہ گزینوں کو مالی رقم اور انہیں اور ان کے گھر والوں کو قیام کا پرمٹ دینے کا لالچ دے کر بھرتی کرتا ہے۔ اس طرح ان کی غربت اور تنگی کے معاشی حالات کا استحصال کرکے انہیں بشار الاسد کی حکومت بچانے کے لیے شام میں لڑائی میں جھونک دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کا دفاع کرنے والی بین الاقوامی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" نے جنوری میں اپنی ایک رپورٹ میں ایسی شہادتیں جمع کی تھیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے نومبر 2013 سے اب تک ایران میں کم از کم ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو بھرتی کیا جن میں بعض جبری بھرتیاں بھی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ان میں سے بعض نے بتایا کہ انہیں یا ان کے عزیزوں کو شام میں لڑنے پر مجبور کیا گیا اور وہ وہاں سے یونان فرار ہوگئے یا پھر انکار کی صورت میں ان کو بے دخل کرکے افغانستان بھیج دیا گیا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر شام میں لڑ رہے ہیں خواہ مذہبی وجوہات کے لیے یا پھر ایران میں قانونی قیام حاصل کرنے کے لیے۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایک ذمہ دار پیٹر بوکائرٹ نے رپورٹ میں بتایا کہ "ایران افغان پناہ گزینوں اور مہاجرین کو شام میں لڑنے کے لیے صرف مراعات کی پیش کش نہیں کرتا بلکہ ان میں سے بہت سوں کا کہنا ہے کہ انکار کی صورت میں انہیں بے دخل کرکے افغانستان بھیجنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ اس خوف ناک آپشن کی وجہ سے ان میں سے بعض افغان یورپ فرار ہوگئے۔

یاد رہے کہ ایران میں تقریبا تیس لاکھ افغان رہ رہے ہیں جو اپنے ملک میں انارکی اور خراب صورت حال کی وجہ سے فرار ہو کر آئے۔ ان میں سے صرف 9.5 لاکھ ہی پناہ گزین کارڈ حاصل کرسکے ہیں۔