.

حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے پر خامنہ ای سعودی عرب پر برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#اسلامی_تعاون_تنظیم کی #ترکی میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں لبنانی شیعہ ملیشیا #حزب_اللہ کو دہشت گرد قرار دینے پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ #خامنہ_ای نے غصہ #سعودی_عرب پر نکالا ہے۔ #تہران میں ایک وفد سے ملاقات کے دوران سپریم لیڈر نے نام لیے بغیر سعودی عرب پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دلوانے کے فیصلے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سپریم لیڈر نے الزام عاید کیا کہ مسلمان ملکوں کے ایک مخصوص ٹولے نے اسلامی تعاون تنظیم ’او آئی سی‘ کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی حمایت کرتے ہوئے اسے عالم اسلام کا ’فخر‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ جیسی تنظیموں کی حمایت اور مدد ہمارے لیے باعث فخر ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں ترکی کی میزبانی میں ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیے میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے ساتھ ساتھ ایران کو دوسرے ملکوں میں مداخلت پر سخت تنبیہ کی گئی تھی جس پر ایران کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینے اور #ایران کی مداخلت کی مذمت کرنے پر صدر حسن روحانی اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔