.

سعودی شاہ سلمان کا امریکا سے ''دوستی'' پر اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر براک اوباما کے ساتھ الریاض میں قصر عرقة میں ملاقات کے دوران امریکا کے ساتھ ''دوستی'' پر زوردیا ہے۔

امریکی صدر بدھ کو الریاض پہنچے تھے اور انھوں نے رات عشائیے پر شاہ سلمان سے ملاقات کی۔دونوں لیڈروں نے دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور ان میں پیدا ہونے والی سرد مہری کے علاوہ خطے کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

صدر اوباما آج جمعرات کو الریاض میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں شرکت کررہے ہیں۔اس اجلاس میں شام میں جاری تنازعے ،یمن کے بحران اور خلیجی عرب ممالک کے امور میں ایران کی مداخلت کے حوالے سے تبادلہ خیال متوقع ہے۔سعودی عرب اور اس کے اتحادی امریکا کے ایران کی جانب جھکاؤ پر مشوش ہیں اور وہ چھے بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں طے شدہ جوہری معاہدے کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔

ایک امریکی عہدے دار نے صدر اوباما کے دورے سے قبل ایک بیان میں کہا کہ امریکا ایران کی خطے میں عدم استحکام کی سرگرمیوں کا توڑ کرنے کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ تعاون کو تیار ہے۔سعودی عرب لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور یمن کے حوثی باغیوں کی سرگرمیوں کا توڑ کرنا چاہتا ہے۔وہ ان دونوں کو ایران ہی کے گماشتہ گروپ خیال کرتا ہے۔

عرقۃ محل میں شاہ سلمان کے ساتھ صدر اوباما کی ملاقات میں امریکی وفد میں شامل قومی سلامتی کی مشیر سوسن رائس ،وزیردفاع آشٹن کارٹر ،الریاض میں متعیّن امریکی سفیر جوزف ویسٹفل ، صدر کی ہوم لینڈ سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کی مشیر لیسا موناکو ،قومی سلامتی کے نائب مشیر بنجمن رہوڈز ،سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینان اور وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری جوش ایرنسٹ بھی موجود تھے۔