.

شام میں بشار کی جیت زیادہ بڑا خطرہ ہے: سابق امریکی مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذمہ داران ایران کے نیوکلیئر معاہدے اور اس کی شقوں پر عمل درامد کی نگرانی سے متعلق اپنے روایتی خلیجی حلیفوں کو وقتا فوقتا تسلیاں دیتے رہے، تاہم امریکی انتظامیہ کے مواقف کے دہرے پن بالخصوص نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کے بعد ایران کی جانب سے پاسداری کی متعدد خلاف ورزیوں کے سبب خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور امریکا کے درمیان دو طرفہ خصوصی تعلقات کشیدہ ہوگئے۔

امریکی وزارت دفاع میں بحیرہ روم کے ساحلی ممالک (اردن، فلسطين، شام اور لبنان) کے امور کے سابق سیاسی اور فوجی مشیر ڈیوڈ شینکر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ خصوصی گفتگو میں کہا کہ اوباما انتظامیہ نے مشرق وسطی کے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک نئے اسلوب پر بھروسہ کیا ہے، جس میں "امریکا کے روایتی حلیفوں پر اعتماد اور ان کے ساتھ معاملہ بندی" میں کمی کی گئی ہے جب کہ ساتھ ہی یہ امید بھی رکھی گئی ہے کہ ایران مشرق وسطی کے استحکام میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ "اگرچہ ایران کی جانب سے خطے کو غیر مستحکم کرنے اور دہشت گردی کے لیے اس کی سپورٹ کا سلسلہ بدستور جاری ہے تاہم ایسا نہیں لگتا کہ امریکی انتظامیہ ایران کے محاسبے کا ارادہ رکھتی ہے"۔ شینکر نے واضح کیا کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد جو اربوں ڈالر اس کے ہاتھ آئیں گے بلا شبہ ان کے ذریعے خطے کے عدم استحکام کے لیے کام کیا جائے گا جس سے خطے میں نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہوجانے کا خطرہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کا ایران سے قریب ہونا، اس نے امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا کردیا ہے اور اس امر نے بالآخر "ایران کا حوصلہ" بڑھا دیا ہے۔

امریکی وزارت دفاع کے سابق مشیر کے مطابق شام کے معاملے میں اوباما انتظامیہ کی پالیسیوں میں انارکی درحقیقت شامی بحران میں اوباما کی "کچھ نہ" کرنے کی خواہش کا نتیجہ ہے جو کہ 2011 میں اس کے آغاز کے وقت سے اسی طرح ہے۔ شینکر کے نزدیک یہ امریکی صدر باراک اوباما کے اس نقطہ نظر کا اطلاق ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ "دوسروں کی خانہ جنگی ہے" اگرچہ اس کے تباہ کن نتائج یورپ اور امریکا تک پھیل گئے۔ شینکر کا کہنا ہے کہ "لگتا ایسا ہے کہ اس تنازع کے نتیجے میں امریکا کا کوئی براہ راست مفاد نہیں ہے تاہم اس کے باوجود شام کی بازی میں امریکا کے لیے بہت سے چیلنج ہیں"۔

واشنگٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں عرب پالیسی پروگرام کے ڈائریکٹر ڈیوڈ شینکر نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے داعش تنظیم کے خلاف جنگ پر توجہ مبذول کرنے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق زیادہ بڑا تزویراتی خطرہ بشار الاسد کے نظام، تہران، حزب اللہ اور روس کی کامیابی میں چھپا ہے۔ یہ وہ امر ہے جس سے خطے میں مذہبی شدت پسندی مزید بھڑکے گی اور تہران کی جانب سے دشمنانہ کارروائیاں کئی گنا ہوجائیں گی اور خطے کے امور میں اس کی مداخلت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوجائے گا۔

انہوں نے باور کرایا کہ نیوکلیئر معاہدے پر دستخط کے بعد خطے میں ایران کے غیرمحتاط رویے میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کا آغاز نئے بیلسٹک میزائل کے تجربے سے ہوا اور پھر امریکی ملاحوں کے اغوا کی کارروائی عمل میں آئی۔ شینکر کے مطابق "ایران یہ سمجھ رہا ہے کہ اس نے امریکا سے سرزنش سے بچاؤ کو خرید لیا ہے کیوں کہ امریکی انتظامیہ اس اندیشے کا اظہار کررہی ہے کہ کہیں کوئی ایسا معاملہ نہ ہو جس سے ڈیل جاری رہنے کو خطرہ پیدا ہوجائے۔

دوسری جانب ڈیوڈ شینکر کے مطابق واشنگٹن اور خلیج میں اس کے روایتی حلیفوں کے درمیان تعلقات کی کشیدگی، یمن اور عراق کے معاملات میں مزید پیچیدہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ "مجھے توقع نہیں کہ اوباما انتظامیہ کے آخری برس کے دوران یہ تعلقات بہتر ہوں گے"۔

وزارت دفاع کے سابق مشیر کے بیان کے مطابق اٹلانٹک جریدے کے ساتھ امریکی صدر کے آخری انٹرویو نے صاف ظاہر کردیا کہ اوباما خلیج میں اپنے دوستوں کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک اور امریکا کے درمیان تعلقات کی اصلاح اور اوباما کی طرف سے پہنچائے گئے نقصان کا ازالہ، یہ سب نئی امریکی انتظامیہ کے کاندھوں پر ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن کے لیے عدم استحکام کے خطرے سے دوچار خطے میں سعودی عرب ایک انتہائی اہم دوست شمار ہوتا ہے، جس پر خطے میں بڑھتے چیلنجوں کے پیش نظر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔