.

ایران کے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربے کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے گذشتہ منگل کو خفیہ طور پر جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت کے حامل بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

روسی خبر رساں ادارے’’انٹرفیکس‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حکام نے ’’سیمرگ‘‘ نامی بیلسٹک میزائل کا تجربہ خفیہ طور پر کیا ہے جس کے بارے میں ذرائع ابلاغ کو خبر نہیں دی گئی۔

روسی ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کے دو راڈار اسٹیشنوں ھیذر اور افرمافیر نے ایران کے بیلسٹک میزائل کے تجربے کا انکشاف کیا جسے وسطی ایران میں صحرائے کویر سے کامیابی کے ساتھ داغا گیا جس کا بیشتر حصہ جنوبی ایران میں گرا ہے۔

روسی اخبار’’کومیرسانٹ‘‘ کا کہنا ہے کہ تہران نے بین البراعظمی میزائل تجربہ 19 اپریل بروز منگل کو صحرائے کویر میں کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ روسی ماہرین دفاع ایران میں کیے گئے نئے میزائل تجربے کی تحقیقات کررہے ہیں۔ ماہرین یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا ایرانی میزائل میں کیا کیا خصوصیات ہیں۔

خلاف معمول ایرانی پاسداران انقلاب اور ذرائع ابلاغ اس میزائل تجربے پر خاموش ہیں۔ خیال رہے کہ ایران نے رواں سال مارچ میں بیلسٹک میزائل تجربات کیے تھے جس پر امریکا نے تہران پر نئی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

گذشتہ منگل کو امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جون کیربی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے پاس ایران کے نئے میزائل تجربے کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں، تاہم امریکا ایران کے میزائل تجربات کی مانیٹرنگ جاری رکھے گا۔